یورپی یونین وبرطانیہ نے پاسداران انقلاب وپریس ٹی وی پرپابندیاں عائد کردیں

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

یورپی یونین نے ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں وزیر داخلہ،سپاہِ پاسداران انقلاب کے سربراہ اورسرکاری ٹیلی ویژن پریس ٹی وی سمیت 29 افراد اور تین تنظیموں پرنئی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے سوموارکوایک بیان میں کہا ہے کہ ”تنظیم ایران میں مظاہرین کے خلاف ناقابلِ قبول پرتشدد کریک ڈاؤن کی شدیدمذمت کرتی ہے۔ہم ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اوران کے پُرامن احتجاج کے حق کی حمایت کرتے ہیں،ان کے مطالبات اور خیالات کو آزادانہ طور پر آوازدیتے ہیں۔ہم آج ایرانی مظاہرین کو دبانے کے ذمہ دارحکام اور اداروں پراضافی پابندیاں عایدکررہے ہیں“۔

ایران میں 16 ستمبرکو 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی پولیس کی حراست میں موت کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔مظاہرین ملک گیراحتجاج میں ایرانی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں اور رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف سخت نعرے بازی کررہے ہیں۔

حکومت نے اس کے جواب میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کیاہے۔سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہزاروں کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔

یورپی یونین نے مظاہرین کے خلاف اس کریک ڈاؤن میں کردار پر ایرانی قانون نافذ کرنے والی فورسز (ایل ای ایف) اور پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے صوبائی سربراہوں کے ساتھ ساتھ ایران کی برّی فوج کے کمانڈر بریگیڈیئرجنرل کیومرس حیدری اورحالیہ احتجاجی ریلیوں کے دوران میں لوگوں پروحشیانہ جبروتشدد کرنے والے اسکواڈ کے چارارکان پرپابندیاں عاید کی ہیں۔

یورپی یونین کی ان تازہ پابندیوں میں ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پریس ٹی وی کو بھی ہدف بنایا گیا ہے اور اس کو زیرِحراست افراد کے جبری اعترافی بیانات کی تیاری اورنشرکرنے کاذمہ دارقراردیا گیا ہے۔

یورپی یونین نے ایرانی سائبرپولیس کے سربراہ وحید محمد ناصر ماجد پر بھی پابندی عاید کی ہے۔ان پر”ایرانی حکومت پرآن لائن تنقید کا اظہار کرنے والے لوگوں کو من مانے طریقے سے گرفتار کرنیکا الزام ہے۔

یورپی یونین نے ایران کے وزیرداخلہ احمد وحیدی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں نامزد کیا ہے۔وہ قانون نافذ کرنے والی فورسز (ایل ای ایف) کے انچارج ہیں۔ان فورسز نے حالیہ احتجاجی تحریک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاارتکاب کیا ہے“۔

ان پابندیوں کی زد میں آنے والے ایرانی عہدے دار،افراد یورپی یونین کے رکن ممالک کا سفرنہیں کرسکیں گے۔یورپ میں ان کیاثاثے منجمد کرلیے جائیں گے اور یورپی یونین کے شہری اور کمپنیاں ممنوعہ فہرست میں شامل افراداور ایرانی اداروں کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں کرسکیں گے۔

برطانیہ نے پیر کے روز کہا کہ وہ ایران کے ایک وزیر سمیت دو درجن عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ان مظاہروں کو، جو پولیس کی حراست میں ایک 22 سالہ کرد خاتون کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں جاری ہیں، جبر سے کچلنے کی کوشش کی جو پولیس کی۔

برطانوی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے یہ پابندیاں، ایرانی وزیر مواصلات عیسیٰ زری پور کے ساتھ ساتھ ایران کی سائبر پولیس کے سربراہ واحد محمد ناصر ماجد اور سیاسی اور سیکیورٹی حکام کی ایک بڑی تعدادپر لگائی گئی ہیں۔

خارجہ سیکرٹری جیمز کلیورلی نے کہا یہ پابندیاں ایرانی حکومت کے اندر موجود،انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار اہل کاروں کو نشانہ بناتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر، ایرانی حکومت کو ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ مظاہروں کوتشدد سے ختم کر نے کا سلسسلہ بند ہونا چاہیے اور اظہار خیال کی آزادی کا احترام کیا جانا چاہیے۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ زری پور اور ماجد پر اس لیے پابندیاں لگائی گئی ہیں کہ انہوں نے آزادی اظہار رائے اور پرامن اجتماع کو کچلنے کے لیے، ایران میں انٹرنیٹ بند کیا جس میں واٹس ایپ اور انسٹاگرام کو بھی غیر فعال کردیا گیا۔برطانیہ کی طرف سے ان پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا اور سفری پابندیاں شامل ہیں۔

ایران میں یہ مظاہرے، 16 ستمبر کو مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے شروع ہوئے۔ جسے ایران کی اخلاق کا نفاذ کرنے والی پولیس نے،اسلامی قوانین کے مطابق لباس نہ پہننے کے الزام میں گرفتا ر کرلیا اور مبینہ طور پر اس پر حراست میں تشدد کیا گیا،اور اس کی حالت بگڑنے پر اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی موت واقع ہوگئی۔

حکام، پولیس کی طرف سے کسی تشدد کا انکار کرتے ہیں،مگر شواہد اس کے خلاف تھے،جس پر عوام برہم ہوگئے اور اس وقت سے ملک بھر میں ہنگامے جاری ہیں۔ 1979 کے انقلاب کے بعد سے اسلامی جمہوریہ کے لیے یہ مظاہرے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔

سرگرم خبر رساں ادارے ایچ آر اے این اے کے مطابق، ان مظاہروں میں اب تک سینکڑوں مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں اور کئی ہزار حراست میں لیے گئے ہیں۔یورپی یونین بھی پیر کو ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے والی تھی۔

Share This Article
Leave a Comment