بلوچستان کے ضلع واشک میں پاکستانی فوج اور مسلح ریاستی گروہوں کی آپریشن کے نام پر آئے روز جارحیت وہراسانی علاقہ مکینوں کی جان و مال کے ساتھ ساتھ ننگ و ناموس بھی غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔
سنگرڈیسک کو ملنے والی علاقائی ذرائع کے مطابق ضلع واشک کے علاقے ٹوبہ اور گرد نواح میں ریاستی فورسزاور اس کے تشکیل کردہ مسلح گروہ کی جانب سے جارحیت و ہراسانی کی وجہ سے علاقہ مکین مکمل طور پر ذہنی کرب کا شکار ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق آپریشن کے نام پر آئے روز فوجی جارحیت سے لوگ تنگ آچکے ہیں۔فورسز کی جانب سے پورے علاقے کے لوگوں کی پروفائلنگ کی گئی ہے۔ انہیں گھروں سے نکلنے اور ذرائع معاش کیلئے روزہ مرہ کام سے مکمل طور پر روکا جارہا ہے۔
علاقائی ذرائع بتاتے ہیں کہ سیکورٹی فورسزآئے روز لوگوں کے نام و دیگر معلومات کا اندراج کررہے ہیں جس سے انہیں ہر روز کیمپ بلاکر ذہنی تشدد و ہراسانی کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔
کھتیوں اور مال مویشیاں چرانے والے افراد کوبھی کافی مشکلات درپیش ہیں۔ گھروں میں مرد حضرات کی غیر موجودگی میں فوجی اہلکار سمیت ریاستی مسلح گروہوں کے کارندے لوگوں کے گھروں میں جبراً گھس کرعورتوں کے ساتھ نارواسلوک کرتے ہیں، انہیں ہراساں کیا جاتا ہے اور ذہنی تشددسے وہ ذہنی کرب کا شکار ہیں۔