بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداکے لواحقین کی بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4779 دن مکمل ہوگئے۔
پنجگور سے سیاسی سماجی کارکن داد محمد الطاف بلوچ،منظور بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکرلواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے مخاطب ہوکر کہا کہ آج پاکستانی ریاستی اپنی پوری وحشت کے ساتھ بلوچ قوم کے ِخلاف اپنی تمام تر قوت اداروں مقامی رد انقلابی طاقتوں کے ساتھ قومی پرامن جدوجہد کو کاؤنٹر کرنے کی پالیسیوں پر گامزن ہے اور بلوچ فرزندوں کا جبری اغوا گھروں میں گھس کر فرزندوں کو ٹارگٹ کر کے شہید کرنا قابض کی تاریخی ادوار کا حصہ ہیں جس کے تختہ وہ کسی بھی قوم پر اپنی قبضہ کو بر قرار رکھنے کے لئے آخری حربے کے طور پر استعمال کرتی ہے یقینا پاکستانی ریاست اپنی قبضہ کو جان بخشنے کے لئے بلوچ سلو مینو سائنڈ میں مزید تیزی لاتے ہوئے سیاسی ورکروں سمیت تمام مطاتب فکر کے لوگوں کو نشانہ بنانے میں تیزی لائے گی اس لئے دی ہے کہ وہ بلوچ قوم کے دانشوروں دیگر مکتبہ فکر لوگوں کو اپنی قومی شناخت سے محبت رکھتے ہیں چن چن کر مارا جائے اور ریاستی اس رد انقلابی کی یہ دور اقتدار پوری قوم اور دنیا کے سامنے ہے جہاں بولان مچھ ہرنائی کوہلو مستونگ ڈیرہ بگٹی میں لاپتہ بلوچ فرزندوں کو شہید کرکے مقابلہ کا ڈرامہ رچایا جاتا ہر مکران مقبوضہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں سول آبادیوں پر فوجی طاقت کو بے دریچ استعمال کر کے بلوچ کو اس کی زمین پر بے ننگ کیا جاتا ہے اور سیاسی ورکروں لیڈروں کو گھر میں کھس کر شہید کیا جاتا ہے۔
سرکاری گدھی پر بیٹھے سے پہلے جبری لاپتہ افراد کو ڈھال بناکر دنیا کی آنکھوں میں دھول جونگا جائے اور آج اس جبری لاپتہ اسیران کیمپ جلایا جاتا ہے جہاں پر بلوچ شہیدوں لاپتہ فرزندوں کے لواحقین اکے ہوتے اور اپنے پیاروں کے لئے دعا کرتے اور دنیا کے سامنے قابض ریاست کی بربریت افشان کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلوچ جبری لاپتہ کیمپ کو جلانا مارنا اور رونے بھی نہ دینے والی کہاوت ہے ہماری آج آنے والی کل پہچان کے لئے شہادت کی موت رسوائی والی موت سے بہتر ہے۔