کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افرادلواحقین کااحتجاجی کیمپ جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے لواحقین کااحتجاجی کیمپ جاری ہے جسے 4776 دن مکمل ہوگئے۔

سیاسی اور سماجی کارکنان علی بخش بگٹی، عبدالغنی سیلاچی و دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ریاست کی خفیہ اداروں کے اہلکار سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کچھ لوگوں کو اعلیٰ منصب پہ بٹھا کر سیاسی ٹولز استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، ریاستی مشینری متحرک طور پر ڈیتھ اسکواڈ کو سرگرم عمل رکھا ہوا ہے، جن میں بلوچ سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جبری گمشدگیوں اور ان کو قتل کا سلسلہ انہی لوگوں کے زریعے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی آلہ کار اپنے کام کو پلا کرنے اور سرکاری وعدہ وفا کے بدلے بلوچ فرزندوں کو بے دریغ قتل کرکے انکی لاشیں پھینک رہے ہیں یا اجتماعی قبروں میں دفن کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں اور تشدد سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور ہماری پر امن جدوجہد حقوق کے حصول تک جاری رہے گا۔بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کو روکنے کیلئے ایک مؤثر آواز کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ اور اقوام عالم کو پاکستانی ریاست کو جوابدہ کرنا چاہیے۔بلوچستان میں تشدد اب خرف عام ہو گیا ہے، ریاست تشدد سے اب خوف قائم نہیں کر سکتا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment