بلوچ قومی تحریکیں |افروز رند

0
269

تاریخ گزری ہوئی داستانوں اور اساطیروں کا نام ہے۔تاریخ گزرے ہوئے وقت کا آئینہ اور مستقبل کا درخشاں باب ہے۔ جن قوموں نے ماضی سے سب حاصل کرکے آگے بڑھے آج وہ دنیا کے حق حکمرانی کے مالک ہیں۔جن قوموں نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھی آج بھی وہ قرون وسطی جیسے بدترین زندگی گزار رہے ہیں،نہ صرف ان کی زندگی اس جدید دور میں اجیران ہے بلکہ وہ اپنے قومی شناخت کلچراور ثقافت جیسے قوی شناختوں سے دور ہوتے جارہے ہیں۔کئی قومیں آج بھی بڑی شدت سے سیمئی کالونیل طاقتوں کے ساتھ اپنے شناخت کیلئے مزاحمت کی شجرہ کو زندہ کئے ہوئے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اپنے سرزمینوں میں اپنی قومی شناخت کیلئے قومی ریاستیں قا ئم کریں۔دیگر کئیوں کی طرح بلوچ بھی اپنے مستقبل کی جدوجہد میں تاریخ رقم کررہے ہیں۔

چونکہ ہماری بات چل رہی تھی تاریخ کے موضوع پر آج میں آپ لوگوں کو بتانے جارہاہوں ایک کتاب کے بارے میں جو بلوچ قومی مزاحمتی تاریخ،قومی سوال، واشنگٹن کنسنسز اور ماسکو کے پوائنٹ ویو اور اس کتاب میں بلوچ مزاحمتی تحریک کے خوبیوں اور خامیوں،بلوچ تحریک میں اداروں ،افراد کے کردار مزاحمتی محاذوں پر مکمل سیر بحث کی گئی ہے۔گوکہ یہ کتاب چالیس سال پرانہ ہے لیکن اگر آپ اسے پڑھیں تو لگے گا کہ بالکل نئی ہے۔اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ کو ایک فریم آف ریفرنس ضرور ملے گا کہ بلوچوں کے تحریک میں لفظ سرمچار کہاں سے شروع ہوئی۔دادشاہ کون تھے،خیربخش اور عطااللہ مینگل کا تفصیلی انٹرویو،جیسے کہ بزنجو کو بابائے بلوچستان کے بجائے لوگ کیوں بابائے مزاکرات کہنے لگے،عراق نے کس مقصد کی خاطر بلوچوں کی حمایت کی اور اس کا کیا نتیجہ نکلا۔کمیونسٹوں نے بلوچوں کی کیوں حمایت نہیں کی۔ اس میں آپ کو بلوچ مزاحمتی تحریک پر ایک جامع اور موثر تقابلی جائزہ نظر آئے گا،چاہے وہ مشرقی ہوں یا مغربی یا وسط ایشیائی بلوچ ہوں۔یہ کتاب جناب سلیگ ہیریسن نے اسی کے دھائی میں لکھی ہے جس کا نام ”ان افغانستان شیڈو، بلوچ نیشنلزم اینڈ سوئیت ٹمپٹیشن ہے“کتاب کا اردو میں ترجمہ گوشہ ادب والوں نے شائع کی ہے جوکہ مارکیٹ میں دستیاب ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ بلوچ عوامی محاذ ظاہری ا اشتراکیت اور بلوچ قوم پرستی پر یقین رکھتی ہے اور واضع طور پر ماسکو یا پیکنگ کی برتری کو تسلیم نہیں کرتا۔محاذ آزادی بلواسطہ فراری گوریلاؤں کی تحریک ہے جس کی بنیاد شیر محمد مری نے رکھی اور اسے موجودہ نام 1972میں دیاگیا اور باقائدہ ہزارخان مری اس کے لیڈر ابھر کر سامنے آئے۔ہزارخان کو بابو شیرو مری اور نواب شیر بخش مری کی تائید اور حمایت حاصل تھی۔اس دوران ہزار خان کے گروپ میں لندپ گروپ کے محمد بھابھا اور دوست شامل ہوئے جس کی وجہ سے پاکستان سے دیگر ترقی پسند لوگ بھی شامل ہوئے جنہیں لندوپ گروپ کے نام سے جانا جاتاہے۔اس گروپ میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج مسٹر جسٹس ایس اے رحمن کے دو صاحبزادے اسد اور راشد رحمان بھی شریک تھے۔ اس گروپ کے علی احمد تالپور کے دو صاحب زادے، لندن گروپ کے غلام محمد نے 1978کو مجھے بتایاتھا کہ ہم کسی نئے نظریہ کی تلاش میں تھے اور کسی بیرونی سے منسلک نہیں ہونا چاہتے تھے،ہمیں بلوچ نہ ہونے کے باوجود بلوچ تحریک نے جگہ دی،کراچی کے محمد بھابھا کے تعلقات یاسر عرفات کے تنظیم سے بھی تھے اور کہا جاتاہے کہ اس نے ٹریننگ کیلئے چالیس نوجوان بیروت بھیجے تھے، جب کہ 1977کو محاذ کے ساتھی خیرجان بلوچ اور اسلم گچکی عام معافی کے تحت واپس چلے گئے۔

ہیریسن نے 1980کو تحریک کے اندر کچھ اضطراب اور بے چینی کی کیفیت نوٹ کی اس دوران وہ فراریوں سے ملے اور انہوں نے کیمپوں کا دورہ بھی کیا۔ محاذجسے بلوچ لیبریشن فرنٹ بھی کہاجاتاہے۔40فیصد مری قبیلہ کے مری بلوچوں پر مشتمل تھا۔بہرحال محاذ کے راشد رحمن عرف چاکر نے ہزارخان کے کہنے پر آرامکو کمپنی کو مری علاقے سے تیل نکالنے سے روکا۔کچھ انجینئر بھی مارے گئے لیکن یہ ان کیلئے بڑی کامیابی تھی۔خیرجان نے الزام لگایا کہ خلیج اور اضطراب کی وجہ مری قبائلیت پسندی تھی۔اس وقت محاذ کے ساتھ سات ہزار جنگجو تھے ان مین 20 فیصد تعلیم یافتہ نوجوان تھے۔ہزار خان نے مجھے بتایا کہ وہ بیس دنون میں پچیس ہزار نوجوان تیار کرسکتاہے اگر اس کے پاس متعلقہ معاشی اور ضروری اسلحہ اور فنانس ہوں۔

محاذ کا نام 1972کو بلوچ لیبریشن فرنٹ رکھاگیا۔ لندن گروپ کے بالاچ کے مطابق اشتراکی اصولوں سے گریز کرتے ہوئے جمہوری اصولوں کے قریب لیبریشن فرنٹ کی تشکیل کی گئی تھی کیونکہ اگر اس قبائلی سوچ میں کسی کو ذمہ داری دی جاتی تو وہ خود کو برتر سمجھنے لگتا اور خود کو دوسروں پر مسلط کرنے لگتا۔ محاذکے اعلامیوں اور قراردادوں پر زور دیاگیا۔لندن گروپ کے بالاچ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اشتراکیت ترک کرلی ہے۔بتایا کہ وہ جلد گریٹر بلوچستان کے مقصد پاکر بلوچستان کو وہ عنقریب آزاد کرینگے۔ پاکستان کے دیگر حصوں میں تحریک فی الحال نابالغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر بلوچستان میں بلوچوں کے تمام علاقے شامل ہیں۔ انہوں نے مذید کہا کہ وہ سویت کے حق یا مخالف میں کچھ نہیں کرینگے تاہم ی انہوں نے کہا کہ بلوچون کو یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔

شاہ ایران نے بلوچوں کو بہت دبایا لیکن ایران میں اسلامی حکومت کے بعد ایران کے بلوچ بھائی اپنے مشرقی بلوچ بھائیوں سے بہت امید لگائے ہوئے تھے جوکہ سالوں سے شاہ کی استبدادی جبری کا مقابلہ کررہے تھے۔ بقول ہیریسن کے کہ پاکستان کے ساتھ بلوچون کا محاذ اور جنگ کو کچھ ہی دھائی ہوئی ہے لیکن ایران میں یہ ماحسبہ اور جنگ گزشتہ دو ہزار سال سے چل رہاہے لیکن ایرانی بلوچوں کی تحریک سیاسی حوالے سے بہت نابالغ ہے۔ خمینی حکومت کے کمزور ہونے کے باوجود بلوچ اس سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہے۔ بقول ان کے ایرانی بلوچ فارسیوں سے اتنے نفرت کرتے ہیں جتنا مشرقی بلوچ پنجابی سے نہیں۔

فارسی بلوچوں کو کمتر اور وحشی سمجھتے ہیں۔ شاہ اپنے عہد میں سرداروں کو مروعات دیکر قبائل کو کنٹرول کرتاتھا اور بعد میں یہی حکمت عملی ملا خمینی نے بھی بخوبی استعمال کی۔ مجھے بھٹو نے 1973کو ایک انٹرویو میں بتایاتھا کہ شاہ نے انہیں دھمکی کے لہجہ میں بلوچوں کو صوبائی خودمختاری دینے سے بعض رہنے کا کہا تھا۔ شاہ نے کہاتھا کہ پاکستان غیر موثر ہوکر کولپس کرے تو وہ مشرقی بلوچستان کو اپنے تحویل میں لینگے اور وہ اسے اپنے پرژیں اپمپائر کا حصہ تصور کرینگے۔

انہی دنوں چاہ بہار میں ایران اور امریکی فوجیوں کی مشقیں چل رہی تھیں۔مجھے مشقوں میں شریک ایک امریکی فوجی نے کہاتھاکہ ایرانی فوجیوں میں بلوچوں کے بارے میں اضطراب پایا جاتاہے، جب شاہ کے خلاف دادشاہ نے بغاوت کی تو اسے مشرق کی طرف سے پاکستانی ملٹری اور پولیس کا بھی مدد حاصل تھی۔ دادشاہ نے اپنے پچاس جنگجوؤں کے ساتھ نو مہینے تک شاہ کے فوجیوں کو ناکوں چنے چبوائے اور جب اس کا گھیراؤ ہوا اس نے خود کو سرنڈر کے بجائے ہلاک کیا۔ واشنگٹن میں ایک بلوچ طالب نے مجھے کہا دادشاہ نے وہی کیا جو ایک دلیر اور شجاعت پسند بلوچ کرتاہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔دادشاہ اب بلوچوں میں ایک توانا ہیرو کی حیثیت رکھتاہے اس پر مرثیہ اور غزل اور شاعری بھی لکھی جاتی ہے۔

سال 1957کو جب پاکستان نے دادشاہ کے بھائی کو گرفتار کرکے ایران کے حوالے کیا اس دوران کراچی یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ نوجوان جمعہ خان نے اس پر سخت ردعمل دیا۔ جمعہ خان اس وقت کراچی میں ریڈیو پاکستان کے ملازم تھے۔ اسے ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ گئے۔ جمعہ خان اپنے دانشورانہ صلاحیت کی وجہ سے مغربی اور مشرقی دونوں بلوچوں میں بہت معروف تھے۔ جب جمعہ خان کو خطرہ محسوس ہوا تو وہ زیر زمیں چلے گئے پھر اس نے اپنے سرگرمیوں کو خلیج سے جاری رکھا۔ اس دوران مغربی بلوچستان کے ایک اہم قبائلی سردار نے ان کی تنظیم بھی جوائن کیا جس کا نام میرابدی تھا جس کی وجہ سے جمعہ خان کا بلوچستان لیبریشن فرنٹ ایران میں کافی زور پکڑگئی اور ایک حدتک جمعہ عرب بنیاد پرستوں کی حمایت بھی حا صل کرچکاتھا۔ جمعہ خان فلسطین کے یاسرعرفات کی تنظیم میں بھی اثر و سوخ پیدا کرچکا تھا اور مشاورتی کمیٹی کے ممبر بھی بن گیا تھا۔ بہت جلد جمعہ خان کو مصر اور دمشق میں دفتر کھولنے کی اجازت بھی مل گئی۔ جبکہ شام نے تو اسے نیم سفارتی حد تک قبول کرلیاتھا لیکن ایران اور پاکستان کے ساتھ اپنے مفادات کی وجہ سے عرب ممالک نے اس حدتک ان کی مدد نہیں کی سوائے ایران کو پریشر کرنے کی۔ جب شام پر پاکستان اور ایران کادباؤ بڑھا جمعہ خان کی گرفتاری کا تو جمعہ خان گرفتاری سے بچنے کیلئے عراق چلے گئے۔ ایران کردوں کی مدد کررہاتھا اس وجہ سے عراق نے بلوچ کارڈ کو بھی ایران کے خلاف استعمال کرکے ایران کو مشرق میں مصروف رکھنے کی کوشش کی تاکہ ایرانی فوج کی توجہ ہٹے۔عراق نے بلوچستان کی آزادی کیلئے نہیں بلکہ ایران کو پریشر کرنے کیلئے بلوچون کی مدد کی جس دن ایران اور عراق کا معاہدہ ہوا دونون کردوں اور بلوچوں کے مدد سے دستبردار ہوئے۔ اس معاہدے کے فوراً بعد ساواک نے لیبریشن فرنٹ کے رہبر عبدالصمد بارکزئی اور موسیٰ لاشاری کو ہلاک کیا۔ کافی حدتک اپنے تنظیم کو رحیم زرد کوہی نے ایران کے اندر زندہ رکھا ہوا تھا جب پاسدارن انقلاب نے رحیم زرد کوھی کو ہلاک کیا تو ایرانی بلوچستان میں تحریک منتشر ہوگئی۔جب کہ جمعہ خان کا ایک اہم ساتھی سردار میر ابدی نے ایک ہرم بمعہ بنگلہ اور تاحیات مراعات کی خاطر تہران کے سامنے سرنڈر ہوگئے

یہ ایک بہت اہم اور جامع کتاب ہے جس کا مرکزی فوکس بلوچوں کی تحریک اس کے مشکلات،نسلی گروہی اور لسانی جغرافیائی سمیت تمام اہم باتیں شامل ہیں جیسے عطا اللہ ا پنے انٹرویو میں کہا تھاکہ میں نوجوانون کی رہبری نہیں کرسکتا میں آپ لوگوں کے پیچھے چلوں گا۔میں آپ لوگوں کی مخالفت نہیں کرونگا لیکن آزادی کا قیمت بہت بڑی ہے میں اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرسکتا۔امید ہے حوادث کے سامنے ڈٹ جانے والے اور نظریاتی کشمکش کے اس پیرڈ کے اس اہم کتاب کو آپ ضرور تجسس کے ساتھ پڑھیں گے۔


٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here