حماس رہنما یحیٰ سنوار کی ہلاکت دنیا کے لیے اچھا دن ہے، بائیڈن

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاکت ’ اسرائیل کے لیے، امریکہ اور دنیا کے لیے ایک اچھا دن ہے‘۔ انہوں نے یحییٰ کی ہلاکت کو حماس کی قید میں رکھے گئے اسرائیلی یرغمالوں اور غزہ میں ایک سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا ایک موقع بھی قرار دیا۔

اس سے قبل اسرائیل کے وزیرِ خارجہ اسرائیل کاٹز نے تصدیق کی تھی کہ جمعرات کو غزہ میں اسرائیلی کارروائی کے دوران حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار مارے گئے ہیں۔

جو بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ یحیٰ سنوار کی ہلاکت پر ان کے وہی احساسات ہیں جب امریکہ نے نائن الیون کے حملوں کے ذمہ دار القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا۔

حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے یحییٰ سنوار کو کسی عوامی مقام پر نہیں دیکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سات اکتوبر کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی، کوئی بھی دہشتگرد انصاف سے بچ نہیں سکتا، چاہے اس پر کتنا وقت ہی کیوں نہ لگ جائے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو اور دیگر اسرائیلی رہنماؤں سے بات کریں گے تاکہ ان کو یحییٰ سنوار کی ہلاکت پر مبارکباد دے سکیں اور اسرائیلی یرغمالوں کی گھروں کو واپسی اور اس جنگ کو ایک ہی مرتبہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے پر تبادلہ خیال کر سکیں۔

صدر بائیڈن نے یحییٰ سنوار کی موت کو اس بات کے ایک موقع سے تعبیر کیا جب غزہ میں حماس طاقت میں نہ رہے اور "ایک ایسا سیاسی تصفیہ ہو جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو بہتر مستقبل فراہم کرتا ہو۔”

اسرائیل کے وزیرِ خارجہ اسرائیل کاٹز نے سنوار کی ہلاکت کو "اسرائیلی فوج کے لیے فوجی اور اخلاقی کامیابی” قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ "سنوار کا قتل” یرغمالوں کی فوری طور پر رہائی اور ایسی تبدیلی کا امکان پیدا کرے گا جو غزہ کو ایک نئی حقیقت کی طرف لے جائے گا جو حماس اور ایرانی کنٹرول کے بغیر ہو۔

Share This Article
Leave a Comment