تمپ: فورسز کا علی جان قومی کے گھر پر حملہ،ایک نوجوان جبراً لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ میں تمپ کے علاقے نظرآباد میں پاکستانی فورسز نے گذشتہ رات ڈیڑھ بجے کے قریب بلوچ قومی جہد کار، شاعر اور رائٹر واجہ علی جان قومی کے گھر پردھاوا بول کر 3نوجوانوں کو حراست میں لیا۔

خاندانی ذرائع کے گھر میں موجود خواتین اور بچوں کی شدید مزاحمت پر دو نوجوانوں کو چھوڑ دیا گیا جبکہ ایک کو لیکر اپنے ساتھ لے گئے جو ہنوز لاپتہ ہے۔

لاپتہ کئے جانے والے نوجوان کی شناخت دلاور ولد نور بخش جبکہ مزاحمت پر چھوڑے گئے نوجوانوں کی شناخت جاسم اور احمدکے ناموں سے ہوگئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس سے قبل بھی فورسز کی جانب سے علی جان قومی کے گھر پرمسلسل چھاپے مارے گئیاور ان کی فیملی کو مختلف طریقوں سے تنگ اورہراساں کیایا جاتارہا ہے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق علی جان قومی کو اس کے بیٹے مجاہد قومی کے ساتھ فورسز نے 2010 کو جبراً لاپتہ کیا تھا اور شدید ٹارچر کر کے بعد چھوڑ دیا تھا۔بعدازاں اس کے دوسرے بیٹے مرحوم زاہد قومی، بھانجے امجد اور ناصر پیر محمد کو بھی جبری گمشدگی کے بعد شدید تشدد کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ ریاستی فورسز اور ادارے مرحوم علی جان قومی کے خاندان کو مسلسل جبر کا نشانہ بناتے آ رہے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment