بلوچستان کے ضلع کیچ میں تمپ کے علاقے نظرآباد میں پاکستانی فورسز نے گذشتہ رات ڈیڑھ بجے کے قریب بلوچ قومی جہد کار، شاعر اور رائٹر واجہ علی جان قومی کے گھر پردھاوا بول کر 3نوجوانوں کو حراست میں لیا۔
خاندانی ذرائع کے گھر میں موجود خواتین اور بچوں کی شدید مزاحمت پر دو نوجوانوں کو چھوڑ دیا گیا جبکہ ایک کو لیکر اپنے ساتھ لے گئے جو ہنوز لاپتہ ہے۔
لاپتہ کئے جانے والے نوجوان کی شناخت دلاور ولد نور بخش جبکہ مزاحمت پر چھوڑے گئے نوجوانوں کی شناخت جاسم اور احمدکے ناموں سے ہوگئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس سے قبل بھی فورسز کی جانب سے علی جان قومی کے گھر پرمسلسل چھاپے مارے گئیاور ان کی فیملی کو مختلف طریقوں سے تنگ اورہراساں کیایا جاتارہا ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق علی جان قومی کو اس کے بیٹے مجاہد قومی کے ساتھ فورسز نے 2010 کو جبراً لاپتہ کیا تھا اور شدید ٹارچر کر کے بعد چھوڑ دیا تھا۔بعدازاں اس کے دوسرے بیٹے مرحوم زاہد قومی، بھانجے امجد اور ناصر پیر محمد کو بھی جبری گمشدگی کے بعد شدید تشدد کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ ریاستی فورسز اور ادارے مرحوم علی جان قومی کے خاندان کو مسلسل جبر کا نشانہ بناتے آ رہے ہیں۔