بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کے احتجاجی کیمپ کو 4758 دن ہوگئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اورشہداء کے لواحقین کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4758 دن ہوگئے ہیں۔

این ڈی پی کے سی سی ممبر غنی، نزر مری، سلمان بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ انسانی تاریخ اس امرکی گواہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ظلم جبر کے خلاف اٹھی حق کی آواز کو قتل وغارت گری اورظلم جبر سے نہ دبایاجاسکا اور نہ ہی ختم کیا جاسکاہے۔ قابض نے ہمیشہ پر امن جہد کرنے والوں کے خلاف تشدد وجبر کے ساتھ انہیں غلام رکھنے کیلئے اپنے تمام تر حربے اور وسائل کا استعمال کیا ہے۔یہی صورتحال روز اول سے بلوچ کے ساتھ بھی چلا آرہاہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہاہے کہ بلوچوں کے بعد اب پشتونوں کے علاقہ ہرناہی میں بھی کئی مہینوں سے آپریشن ہو رہاہے۔پشتونوں کو جبری اغوا کرنا اور ان کے گھروں کو نذرآتش کردیاگیا ہے۔ بلوچ پشتون ملکر ان تمام غلامی کے زنجیروں کو تھوڑتے ہوئے پرامن جدجہد کے اس کاروان کا حصہ بنیں۔قابض پاکستانی دلالوں کو آگے کرنے کا مطلب سرزمین کے شہیدوں کے لہو سے دغاکرنا ہے اور خود کو مزید غلامی کی دلدل میں دھکیلناہے۔

آج بلوچ پشتون قابض ریاستی تشدد کا شکار ہے کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا،کسی کا والد شہید ہوا یا پھر ریاستی عقوبت خانون میں تشدد سہ رہا ہے۔ نیز آج ہر بلوچ پشتون کو ریاستی تشدد ظلم جبر کا سامنا ہے۔ایسی صورت میں ان لٹیروں سے ہوشیار رہنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہربلوچ کا فرض ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں جبر لاپتہ فرزندوں کے لواحقین کی حال پرسی کریں کہ ان کے فرزند ایک عظیم قومی مقصد کیلئے آج پاکستانی خفیہ اداروں کے زندانوں میں تشدد سہہ رہے ہیں اور یکجہتی کا اظہار کرتی ہوئے پاکستانی عقوبت خانوں میں بلوچ فرزندوں اور انکے خاندان والوں کے غم دکھ کو اپنا سمجھ کر پرامن جدجہد میں شامل ہوجائیں اور دوسری طرف قومی یکجہتی واتفاق کسی بھی عمل کے اہم ستون ہوتے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment