پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے لاہور میں ایچ آر سی پی کی طرف سے منعقدہ پرواگرم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آواز اٹھائیں تو مارے جائیں گے اور اگر آواز نہ اٹھائیں تب بھی ہمیں مارا جائے گا، یہاں آپ کونسے ریاست کی بات کرتے ہو،یہاں ریاست نہیں صرف اور صرف چند لوگوں کی غنڈہ گردی ہے جو کروڑوں لوگوں پہ مسلط ہیں اور انہیں غلام بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ایک اپنی ایک مخصوص ریڈ لائن کھینچی ہوئی ہے، آپ اسکے لائن کو کراس کروگے تو آپ کو جبری گمشدگیوں اور اقدام قتل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں 23 سال کا تھا جب ہم نے پی ٹی ایم کی بنیاد رکھی تھی اب میں 27 سال کا ہوچُکا ہوں۔میرا شناختی کارڈ بلاک ہے میرا سیم کارڈ بلاک ہے اور مجھے بلوچستان،کشمیر اور گلگت بلتستان میں جانے پر پاپندی ہے۔پاکستان میں اسی چیز کو نوجوانوں کی سیاست میں حصہ کہا جاتا ہے۔
جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو جبر کا نشانہ بنایا انکو یہ جاننا چاہیے کہ بہت سے لوگ اس سرزمین پر ہمیں فتح کرنے کیلئے آئے ہوئے تھے لیکن وہ ناکام ہوئے۔آپ بھی ان لوگوں کی طرح ناکام ہونگے۔
کل وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ میں لاپتہ افراد کو رہا کرونگا۔وزیراعظم صاحب آپ علی وزیر کا پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کرسکتے،آپ لاپتہ افراد کو کسی طرح رہا کرینگے؟