حاکمین اور نادیہ بلوچ کا اپنے لاپتہ بھائیوں کی بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ رحیم الدین بلوچ اور شاہ فہد بلوچ کے ہمشیرہ حاکمین بلوچ اور نادیہ بلوچ نے بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے دھرنے میں شرکت کرکے اپنے بھائیوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

کوئٹہ ریڈ زون دھرنے میں خاران سے لاپتہ رحم الدین بلوچ کی ہمشیرہ حاکمین بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی کو 26 اگست 2016 کو خاران سے لاپتہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فورسز نے 26 اگست کی رات کو ہمارے گھر میں چھاپہ مار کر میرے بھائی کو جبری طور پر لاپتہ کردیا اور اسکی بعد اب تک انکی کوئی خبر نہیں۔

حاکمیں کاکہنا تھا کہ رحم الدین ہمارے گھر کا واحد سہارا تھا میرے والد ضعیف ہوچکے ہیں اور کمانے والا صرف میرا بھائی رحم الدین ہی تھا لیکن جب سے وہ لاپتہ ہوئے ہیں ہمیں پتہ ہے کہ ہم کس قرب سے گزر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انکی بازیابی کے لئے میرے والد سے کچھ لوگوں نے پیسے مانگے تھے تو اس اثنا میں میرے والد نے نوکری سے رٹائرمنٹ لے لی اور تین چار لوگوں کو قصیر رقم ادا کیا مگر انہوں نے سب پیسے کھا کر ہمارے بھائی کو بازیاب نہیں کیا۔

حاکمین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 26اگست کی رات کو میرے بھائی سمیت خاران ایف سی اور خفیہ اداروں نے کچھ اور لوگوں کو بھی لاپتہ کیا تھا وہ سب بازیاب ہوگئے مگر میرا بھائی اب تک بازیاب نہ ہوسکا۔

میری ماں اس طویل درد، ازیت،اور تکلیف کو کو برداشت کرتے کرتے دل کا مریض بن گئی ہیں اور نے ہم نے بھائی بازیابی کے لئے ہر طرح سے ممکنہ کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا تو اس لئے ہم مجبور ہوکر شال ریڈ زون دھرنے میں شریک ہوگئے ہیں کہ شاید میرا بھائی بازیاب ہوسکیں۔

انہوں مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا بھائی بے گناہ ہے انکو بازیاب کیا جائے وہ ہمارے گھر کا واحد سہارا ہے اس کے بغیر ہماری زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ اگر وہ مجرم ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر نہیں ہے تو اسے باحفاظت بازیاب کیا جائے۔

اسی طرح ضلع خاران سے لاپتہ شاہ فہد بلوچ کی ہمشیرہ نادیہ بلوچ نے شال ریڈ زون دھرنے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی کو خاران شہر ہمارے گھر سے سی ٹی ڈی نے لاپتہ کرکے نامعلوم جگے پر منتقل کردیا۔

نادیہ بلوچ کو کہنا ہے کہ شاہ فہد کو 16 مارچ 2022 کو سی ٹی ڈی نے ہمارے گھر میں چھاپہ مار کر جبری طور پر لاپتہ کردیا جس کے بعد اب تک انکی کوئی خبر نہیں۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میرا بھائی حافظ القران ہے اسکا کسی بھی سْیاسی و مزہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے سی ٹی ڈی نے ہمارے گھر میں چھاپہ مار کر شاہ فہد کو لاپتہ کردیا اور اس کے چند دن بعد کہی گاڈیوں سمیت ایف سی والے ہمارے گھر ائے نغدی اور دوسرے تمام قیمی سامان اپنے ساتھ لے گئے۔

ہماری مزاہمت کرنے پر انہوں نے ہمیں یہ دھمکی دے دیا کہ اگر اپ لوگ موبائل اور دوسری اشیا دینے سے قاصر رہے تو ہم اپ کے بھائی کو جان سے مار دینگے۔

آخر میں انہوں کہا کہ ہم نے شاہ فہد کی بازیابی کے لئے ہر طرح سے قانونی راستہ اختار کیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا تو اس وجہ سے ہم مجبور ہوکر شال ریڈ زون دھرنے میں شریک ہوگئے ہیں۔ اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ میرے بھائی شاہ فہد کو بازیاب کیا جائے اگر وہ مجرم ہے تو اسکو اپنے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment