بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں جاری لاپتہ افراد لواحقین کے دھرنے کو 46 دن ہوگئے۔
زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاجی دھرنے کو آج 46 دن مکمل ہو گئے۔
46 سے مسلسل دن رات موسم کی شدت اور ایک ہفتے کی شدید بارشوں میں باہر خیمے میں دھرنے پہ بیٹھنے سے لواحقین کی طبیعتیں بگڑتی جا رہی ہیں، لیکن انکے مطالبات کی منظوری اب تک ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
چار اکتوبر کو کراچی سے جبری لاپتہ عبدالحمید زھری کی بیٹی سعیدہ حمید کی اپیل پر انکے ابو کی بازیابی کیلئے آج سوشل میڈیا پہ
#ReleaseAbdulHameedZehri
کے ھیش ٹیگ پہ کمپیئن کیا جا رہا ہے۔
دریں اثناء سماجی رابطوں کی پلیٹ فارم ٹویٹر پہ وی بی ایم پی کے جنرل سیکرٹری سمی دین بلوچ نے ٹویٹ کرکے لکھا ہے کہ ”ہمارے دھرنے کو آج 46 دن ہوچکے ہیں ہمارے دھرنے کا مقصد جبری گمشدگیوں کی روک تھام، فیک انکاؤنٹر کے خلاف اور پہلے سے لاپتہ افراد کی بازیابی ہے، مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت بھی بلوچستان میں ہنگامی سیلابی صورتحال کے باوجود لوگوں کو جبری لاپتہ کیا جارہا ہے۔
آج خضدار گریشہ سے سماجی کارکن ممتاز ساجدی کے والد سمیت چھ افراد کو غیر قانونی حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا گیا ہے، اگر مقتدرہ قوتوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کسی بھی حال میں وہ اپنا جبر اور تشدد نہیں چھوڑ سکتے ہیں تو یہ بات وہ اعلانیہ کریں تاکہ ہم بھی اپنے احتجاج کے طریقے کار اور لائحہ عمل میں تبدیلی لائیں۔