بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کے کیمپ 4748 دنوں سے جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4748 دن ہوگئے۔

بی ایس او مینگل کے انفارمیشن سیکرٹری بالاچ قادر بلوچ، شوکت بلوچ اور دیگرنے کیمپ آکرلواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ طاقتور اور قابض کسی کمزور ریاست پہ اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے مختلف طریقہ کار آزماتے ہیں، وہ غلام قوم کے نفسیات کو پڑھ کر اسی حساب سے اپنا تسلط قائم کرتا رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ریاست نے دہشت گردانہ کارروائیوں میں تیزی لائی ہے، مختلف علاقوں میں فوج نے اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے فوجی بربریت اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ریاست نے عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، انسانی حقوق کے تنظیموں کے دعویٰ اور بیانات لفاظی رہ گئے ہیں، بلوچستان انسانی حقوق کے حوالے سے بلیک ھول بنتا جا رہا ہے، نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا بلیک آؤٹ ہے، سب نے چشم پوشی روا رکھا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے نوٹس لینے اور اعلامیے جاری ہونے کے باوجود کوئی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں نا کوئی کمی آ رہا ہے نا ان پہ عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment