بلوچستان میں حکومت اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان گئے۔ رات مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ڈاکٹروں نے ہسپتالوں میں مختلف سروسز کے بائیکاٹ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ان کو فوری طور پر بحال کر دیا ہے۔
کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی مذاکرات کی کامیابی پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سب کو مل کر بڑے مقصد کو حاصل کرنا ہے اور مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے۔‘
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر یاسر اچکزئی نے بلوچستان کے وزیر زمرک خان اچکزئی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس کا اعلان کیا۔
قبل ازیں حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئٹہ شہر کے مختلف تھانوں میں زیر حراست ڈاکٹروں کو رہا کر دیا گیا۔ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں پریس کانفرنس کے دوران ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے شکایتوں کے انبار لگا دیئے گئے۔
ڈاکٹریاسر کا کہنا تھا کہ ’ہمارے جائز مطالبات کوتوجہ نہیں ملی۔ ہمیں فرنٹ لائن سولجرز کا خطاب تو دیا جا رہا لیکن ہم اور ہماری فیملی سے ہماری حالت کا پوچھیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ہمیں ڈنڈوں سے مارا گیا یہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ جمہوری حکومت میں ایسے اقدامات کا ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ انھوں نے حکومتی رویے پر شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ڈاکٹروں کو مناسب حفاظتی کٹس نہیں ملی ہیں لیکن ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مسائل حل ہوں گے۔
جبکہ بلوچستان کے وزیر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز نے پہلے فراہم کی جانے والی کٹس کو غیر معیاری قرار دیا تھا جس پر انکوائری ہوگی۔انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، فوج اور چین کی طرف سے امدادی سامان آرہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کے چار مطالبات تسلیم کیے گئے ہیں۔