لاپتہ افراد کی جعلی مقابلوں میں ہلاکت پر پورا بلوچستان سراپا احتجاج | سنگر ماہانہ رپورٹ

0
222

ماہِ جولائی میں 26سے زائد فوجی آپریشنز میں 33افرادلاپتہ،33افرادقتل،درجنوں گھرلوٹ مارونذر آتش

سنگر کا تجزیاتی رپورٹ چیف ایڈیٹر دوستین بلوچ کے قلم سے

مقبوضہ بلوچستان میں ریاستی جنگی جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ قابض ریاست کسی صورت بھی بلوچ ساحل و وسائل سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔جعلی مقابلوں سمیت خواتین کو ہراساں اوران کو گرفتار کرکے سیکس سلیب کے ساتھ نوجوان اور بچوں کو بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنا کر اپنی ہوس کا نتیجہ بنا رہی ہے۔
جولائی کے مہینے میں قابض ریاست نے مقبوضہ بلوچستان میں دستیاب اعداد و شمار کے مطابق33 بلوچ فرزندوں کو26 آپریشنوں یا اپنے جنگی جبر سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
اسی مہینے 33 نعشیں برآمد ہوئیں جس میں 9 جبری گمشدگی کے شکار بلوچوں کو جعلی مقابلوں سمیت سی ڈی اے نامی فورسز نے دو بلوچوں کو اسی طرح نشانہ بنا کر شہید کیا۔دو خواتین کی زمین میں دفن لاشوں کے ساتھ ایک اور لاش کی شناخت نہ ہو سکی۔
ایک بلوچ رفیوجی کو افغانستان میں آئی ایس آئی نے مار کر شہید کیا جبکہ ایک بلوچ رفیوجی ثاقب کریم کی لاش آذربائی جان سے ملی۔باقی لاشوں کے محرکات سامنے نہ آ سکے۔
دوران جنگی جرائم پاکستانی فوج نے پچاس سے زائد گھروں میں لوٹ مار کی جبکہ نوشکی و مکران آپریشنز میں اطلاعات کے مطابق گن شپ ہیلی کاپٹروں کے شیلنگ سے درجنوں مویشی مارے گئے۔
پاکستانی فورسز کے جعلی مقابلوں میں پیاروں کی شہادت کے خلاف جب احتجاج شروع ہوا تو کوئٹہ میں بلوچ ماؤں،بہنوں،چھوٹے بچوں کو بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے تاریخ کربلا بھی چیخ گئی ہو گی۔ دراصل جب مظلوم اقوام کو غلامی کا احساس ہوتا ہے تو قابض،جبر اپنی قبضہ کو برقرار رکھنے کے لیے آخری حدیں پار کر لیتا ہے۔آج بلوچ قوم جاگ گیا ہے، بلوچستان کے بچے بچے کو اپنی غلامی کا احساس ہوگیا ہے،ہر کوئی نیند سے بیدار ہوگیا ہے،ہر کوئی لاپتہ افراد کی بازیابی کا نعرہ لگا رہا ہے اور اس پرامن جدوجہد میں خون بہتا ہے اور خون بہتے رہے گا۔ عظیم لوگوں کا خون بہنا تاریخ کے سفر کا حصہ ہے اور یہ خون ضائع نہیں ہونگے۔ ان شہیدوں کے خون سے آزادی کی شمعیں جلیں گی اور غلامی کی تاریک راہیں روشن کرن میں بدل جائینگی۔ اس جدوجہد میں ہزاروں بلوچ فرزندوں نے اپنے پیاروں کی سلامتی کے لئے اپنا خون بہایا ہے۔ دنیا میں ایسے بہت کم انسان پیدا ہوتے ہیں جو انسانیت کی خاطر مظلوم قوموں کے لئے اپنی آواز بلند کرکے کٹھن اور دشوار را ہوں میں اپنے جان کا نذرانہ نہ پیش کرتے ہیں۔
آج بلوچ تاریخ اس نہج پر ہے کہ اس نے اپنی قربانیوں سے منزل کے سفر کو قریب کر دیا ہے۔

تفصیلی رپورٹ

یکم جولائی
۔۔۔سندھ سے فورسز ہاتھوں مزید 6بلوچ جبری طور پر لاپتہ
پاکستانی فورسز نے صوبہ سندھ کے مختلف علاقوں سے مزید6 بلوچوں کو حراست میں لے کر جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ ہونے والوں کی شناخت مٹھا ولد نصیر، حمید ولد موسیٰ، نوکاپ ولد درمحمد، وڈیرہ ولد درمحمد، اسماعیل ولد زرک اور موریا ولدزرک کے ناموں سے ہوئی ہے۔
مذکورہ افراد کو سندھ کے علاقے جیکب آباد اور خیرپور سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے جسکے بعد وہ لاپتہ ہیں۔

2 جولائی
۔۔۔کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے بلوچستان کے علاقے مستونگ میں 2مشتبہ افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک کارروائی کے دوران مشتبہ افراد سے فائرنگ کے تبادلے میں 2افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ہلاک افراد کے دیگر ساتھی فرار ہوگئے۔

3 جولائی
۔۔۔بلوچستان کے ضلع کوہلو کے 80فیصد سرکاری اسکولوں کی بندش کا انکشاف ہوا ہے۔
حکومتی دعوؤں کے برعکس باوثوق ذرائع کے مطابق ضلع کوہلو کے 80فیصد اسکول بند ہیں اور20فیصد اسکول اگر کھلے بھی ہیں ان اسکولوں میں بچوں سے چپڑاسی کا کام لیا جاتا ہے۔جن علاقون میں اسکولز بند ہیں ان میں کاہان،جنتلی اورنساؤ شامل ہیں۔
۔۔۔سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بلوچوں کو لاپتہ کرنے کا عمل جاری ہے۔کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے بلوچ طالب علم شعیب احمد ولد اعظم خان کو سندھ ہولیس اور فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔
۔۔۔نوشکی کے پہاڑی علاقے منجرو، مْخبلی، خوانکی، خاخوئی اور گرد نواح میں آج صبح سے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں جاری ہے، جبکہ علاقائی ذرائع کے مطابق مذکورہ علاقے میں جاری فوجی آپریشن میں پیدل فوجی دستے حصہ لے رہے ہیں۔

4 جولائی
۔۔۔کوئٹہ سے کیچ جانیوالے3 بلوچ طلباپاکستانی فورسز ہاتھوں لاپتہ،
کوئٹہ سے ضلع کیچ جانیوالے3 بلوچ طلباکوسیکورٹی فورسز نے مستونگ کے قریب مسافر بس سے اتار کر جبرا! لاپتہ کردیا ہے۔مذکورہ طلبا عید کی چھٹیاں گزارنے کوئٹہ سے اپنے علاقے کیچ جا رہے تھے۔لاپتہ کئے گئے طلبا کی شناخت جہانزیب،طلال، رحمت اللہ ولد حاجی رزاق سکنہ کولواہ بازار تربت کے ناموں سے پوگئی ہے۔
۔۔کوئٹہ کے علاقے سبزل روڈ پر مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیاہے۔چھیپا حکامکے مطابق گزشتہ روز کوئٹہ کے علاقے سبزل روڈ پر مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص بہادر خان ولد حاجی غلام نبی جاں بحق ہوگیا۔
۔۔۔کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس پر ایک شخص کی تشدد زدہ لاش برآمدکرلی گئی۔چھیپا حکام کے مطابق گزشتہ روز کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس لہڑی اسٹاپ مری گلی میں ایک شخص کی تشدد زدہ نعش ملی جسے شناخت کیلئے چیھپا ایمبولینس کے ذریعے سول ہسپتال منتقل کردیاگیا۔
۔۔ ضلع کیچ اور بولان میں فوجی آپریشن جاری ہے جس میں پیدل فوجی دستوں کے علاوہ ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔ کیچ کے علاقے سامی، عمر کہن، شاپک، ڈن سر اور گردنواح کے پہاڑی سلسلے میں آج صبح سے فوجی آپریشن جاری ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق مذکورہ علاقے میں گولیوں اور گولوں کی آوازیں بھی سنی گئی۔
دوسری جانب بولان کے علاقے مارگٹ میں فوجی آپریشن جاری ہے جس میں پیدل فوجی دستے بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں۔

5 جولائی
۔۔۔بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے پنجپائی میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں 3 افرادہلاک جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطا بق ہلاک افرادکا تعلق سرپرہ قبیلے سے بتایا جارہا ہے۔واضع رہے کہ سرپرہ قبیلہ مکمل طور پرفوج کے نشانے پر ہے اور اس قبیلے کے متعدد افراد خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہیں جن میں طالب علم وکم عمر لڑکے شامل ہیں۔

8 جولائی
۔۔۔جمعہ کو خضدار کے علا قے باغبانہ لونڈو کراس کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مو ٹر سائیکل سوار باپ عبد الکریم اور بیٹا رسول ہلاک ہو گئے۔
۔۔۔منگوچر میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دوافراد ہلاک ہوگئے۔
ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت رحم دین ولد شہباز خان بنگلزئی اور قادر بخش ولد عبدالفتاح لہڑی کے ناموں سے ہوگئی۔ذرائع بتاتے ہیں کہ ہلاک ہونے افراد منگوچر سے جوہان موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ پینزئی ڈیم منگچر کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ان پرفائرنگ کی جس سے وہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔
۔۔۔کوئٹہ کے علاقے کلی گوہر آباد لانگو چوک کے قریب نا معلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ہفتہ کی صبح کوئٹہ کلی گوہر آباد لانگو چوک کے قریب نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے وقاص آحمد ولد بشیر احمد ابڑونامی شخص کو ہلاک کردیا۔
۔۔۔ غریب آباد کے علاقے کلی حاجی انار کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ سے عبدالکریم ولد سمندر دادخیل ناصر نامی شخص ہلاک ہوگیا۔
۔۔۔آزربائیجان میں بلوچ رفیوجی ثاقب کریم کی نعش برآمد
آزربائیجان میں بلوچستان کے ضلع واشک، بسیمہ کے رہائشی 23 سالہ ثاقب کریم جو گزشتہ کئی سالوں سے آزربائیجان میں سیاسی پناہ لئے ہوئے تھے کا نعش گذشتہ شام باکو شہر کے سمندر سے برآمد ہواہے۔

9 جولائی
۔۔۔نوشکی شہر سے متصل علاقہ قادر آباد سے گذشتہ رات پاکستانی فورسز نے گھروں پر چھاپے مارے اوراس دوران چھ نوجوانوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ گذشتہ رات دو بجے کے قریب پاکستانی فورسز فرنٹیئر کور اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے بڑی تعداد میں علاقے میں آکر گھروں پر دھاوا بول دیا، اس دوران خواتین سمیت دیگر افراد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
جبری طور لاپتہ افراد میں چودہ سالہ ادریس ولد حاجی اکبر، چودہ سالہ بلال ولد صاحب خان، پندرہ سالہ جلیل ولد صاحب خان،سترہ سالہ زبیر ولد میر احمد، بیس سالہ خالد ولد منیر، افتخار بلوچولد بدل خان کے نام سے ہوئی ہے جو میٹرک کا طالب علم ہے۔شامل ہیں۔

10 جولائی
۔۔۔کراچی سے لاپتہ ہونے والے سعید احمد ولد محمد عمر اتوار کی رات بازیاب ہوگئے۔ سعید عمر کو 29 اپریل 2022 کو کراچی کے علاقے قائد آباد سے لاپتہ کیا گیا تھا۔

12 جولائی
۔۔۔بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں پاکستانی سیکورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔لاپتہ کئے جانے والے نوجوان کی شناخت فیصل ولد حاصل کے نام سے ہوگئی ہے جوپیرکس لعل محمد گوٹھ کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ فیملی ذرائع کے مطابق فیصل کو 10 دن قبل سیکورٹی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مارکر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔

15 جولائی
۔۔بلوچستان کے ضلع کیچ کے تحصیل تمپ میں ایک گھر میں فوجی گولہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 3 افراد زخمی ہوگئے۔
۔۔۔آذربائیجان میں مبینہ قتل ہونیوالے ثاقب کریم کی میت سیمہ پہنچ گئی
آذربائیجان میں گذشتہ دنوں مبینہ قتل ہونے والے بلوچستان کے رہائشی ثاقب کریم کی میت ان کے آبائی علاقے بسیمہ پہنچ چکی ہے۔
۔۔۔دالبندین شہر کے قریب سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔لاش کو طبی معائنہ اور شناخت کے لئے ڈی ایچ کیو پہنچا دیا گیا۔لاش کی شناخت محمد رمضان ولد محمد مراد سکنہ دالبندین دیہی علاقہ ہوکی سے ہواہے۔تاہم ہلاکت کے محرکات سامنے نہیں آسکے۔

16 جولائی
۔۔۔بلوچستان کے ضلع کیچ میں نامعلوم مسلح افراد نے 3 نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔ شاپک میں ڈنسر کے مقام پر ہفتے کی دوپہر میں پیش آیا۔جہا ں نامعلام مسلح افراد نے گھر میں گھس کر تینوں نوجوانوں کو اغوا کرلیا تھا۔جبری طور پر لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت نادل ولد دلمراد، قدیر جان ولد علی بخش اور محمد حاصل کے ناموں سے ہوگئی ہے۔علاقائی ذرائع کے مطابق تینوں نوجوان اپنے رشتہ داروں سے ملنے شاپکُ آئے ہوئے تھے جنہیں گھر سے نامعلوم مسلح افراد اٹھا کر جبراً لاپتہ کرگئے۔
۔۔۔پاکستانی فورسز کی گولہ باری کیخلاف تربت و تمپ میں احتجاجی ریلی و مظاہرے
بلوچستان کے ضلع کیچ کے تحصیل تمپ میں گذشتہ روز پاکستانی فوج کی جانب سے ایک گھر پر مارٹر گولوں سے حملہ اور خواتین وبچوں سمیت چار افراد کی زخمی ہونے کیخلاف آ ج تربت اور تمپ میں متاثرہ خاندان، بلوچستان سول سوسا ئٹی اور تمپ سول سوسائٹی کی جانب سے دو الگ الگ احتجاجی ریلی ومظاہرے ہوئے۔
۔۔۔دشمن فوج کا سرمچاروں کو شہید کرنے کا دعویٰ جھوٹ کا پلندہ ہے،بی ایل اے
بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ہرنائی اور زیارت کے علاقوں میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں کو شہید کرنے کا پاکستانی دعویٰ محض فوج کا ایک پروپگنڈہ حربہ ہے، جسکا مقصد بلوچستان میں اپنی ناکامیوں اور شکست کو چھپانا ہے۔
۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے تمپ کے مختلف علاقوں میں کی جارہی ہے جہاں فورسز کے اہلکار بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں۔علاقائی ذرائع کے مطابق اس وقت فورسز بڑی تعداد میں تمپ جنگل، کونشکلات جنگل، ملک آباد جنگل، کوھاڈ جنگل اور پھل آباد جنگل میں آپریشن میں مصروف عمل ہے۔

17 جولائی
۔۔۔بلوچستان کے علاقے خضدار اور مشکے سے خاتون سمیت 3افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق لیویز فورس خضدار کی ٹیم کو کل زیدی کے علاقے سے 2 افرادکی لاشیں ملیں جن میں ایک مرد اور ایک خاتون کی ہے۔
۔۔۔ مشکے سے اغوا ہونے والے ایک شخص کی نعش برآمد ہوئی ہے۔جس کی شناخت علی احمد ولد عیسیٰ کے نام سے ہوگئی ہے۔مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ علی احمد ولد عیسیٰ کوگذشتہ روز نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔لاش بانسر علاقے سے برآمد ہوئی ہے۔ لیویز فورس مذید تفتیش کررہی ہے۔
۔۔۔ضلع چاغی کے علاقے چھتر سے غلام محمد نامی شخص اپنے بال بچوں کے ہمراہ رات کی تاریکی میں فرار ہوکر انصاف کیلئے کوئٹہ پہنچ گیا۔
ثاقب نامی شخص مسلح گارڈز کے ہمراہ آکر میری 7 سالہ بچی کو زبردستی شادی کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں اگر مجھے انصاف نہیں دیا گیا تو دالبندین چوک پر اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ خودسوزی کروں گا۔

18 جولائی
۔۔۔بی ایل اے سے تعلق کے شبے میں ایک شخص کی گرفتاری کا دعویٰ
کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان نے اپنے ایک جاری کردہ پریس ریلیز میں بی ایل اے سے تعلق کے شبے میں ایک شخص کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔گرفتار شخص کی شناخت غوث بخش ولد علی خان لانگانی مری سکنہ مری کیمپ ہزارگنجی کوئٹہ کے نام سے کی گئی ہے۔
۔۔۔بلوچستان کے علاقے زیارت میں گذشتہ روزپاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں دوران آپریشن شہید ہونے والے ایک شخص کی شناخت بطور لاپتہ افراد کی ہوگئی ہے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ زیارت میں مارے جانے والے لاشوں میں سے ایک لاش ”شمس ساتکزئی“کی ہے جسے ان کی خاندان نے شناخت کی۔ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ خاندان کا کہنا ہے کہ شمس ساتکزئی 5 سال قبل جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔
۔۔۔ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں پیر کے روزنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

19جولائی
۔۔۔منگچر سے خاتون کی لاش برآمد
منگچر تلاری کے ڈھور ایریا میں حالیہ بارشوں کے بعد زمین کی کٹائی کے بعد وہاں کام کرنے والے کاشتکاروں، زمینداروں کو سیلابی ندی ڈھور میں حالیہ بارشوں سے زمین کی کٹائی کے باعث کچھ کپڑے نظر آئے جس پر وہاں جاکر دیکھا گیا تو وہاں کسی نامعلوم خاتون کی نعش کی بوسیدہ باقیات پڑی ہوئی ملی جسے اہل علاقہ نے اسپتال منتقل کیا۔
۔۔۔ خاران کلان کازبہ کے مقام پر دو گاڑیوں میں سوار مسلح نقاب پوش افراد نے محمد اسلم ولد محمد ابراہیم نامی ایک نوجوان کو اغوا کرکے لے گئے۔
بتایا جارہاہے کہ مغوی نوجوان کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ شہر سے گھر جارہاتھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں کا تعلق سرکاری ڈیتھ اسکوائڈ سے تھا۔
۔۔۔بلوچستان کے علاقے زیارت میں پاکستانی فوج کے دوران آپریشن جعلی مقابلے قتل کئے جانیوالے 9افراد میں سے 5کی شناخت ہوگئی ہے۔
پہلے کی شناخت شمس ساتکزئی کے نام سے ہوئی ہے جنہیں پانچ سال قبل فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔
دوسرے کی شناخت شہزاد دہوارجے نام سے ہوئی ہے جنہیں رواں سال جون کے مہینے میں لاپتہ کیا گیا تھا۔
تیسرے کی شناخت انجینئر ظہیر بنگلزئی سکنہ کوئٹہ کے نام سے ہوگئی ہے جنہیں گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں جبراًلاپتہ کیا گیا تھا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ظہیر بنگلزئی کی آخری رسومات کی تیاریاں چل رہی ہیں،انہیں گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں ان کے دفتر“سمارٹ ویز کنسلٹنسی لمیٹڈ ائیرپورٹ روڈ کوئٹہ”کے قریب سے اغواء کیا گیا تھا۔ جسے بعد میں فورسز نے زندہ قرار دیا۔
چوتھے کی شناخت مختار بلوچ ولد عبدالحئی سکنہ خضدار کے نام سے ہوگئی ہے۔جنہیں کوئٹہ کے علاقے موسیٰ کالونی سے رواں برس چار جون کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔
پانچویں کی شناخت سالم کریم بالگتر کیچ کے نام سے ہوگئی ہے۔ جس کے بارے میں ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ اسے کب اور کہاں جبری گمشدگی کا شکار بنا یا گیا تھا۔
۔۔۔بلوچستان کے علاقے خضدار میں سنی حسن آباد سے نامعلوم مسلح افرادنے گھر میں گھس کر ایک نوجوان کو جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت اسداللہ والد علی حسن کے نام سے ہوگئی ہے۔ذرائع بتاتے کہ اغوا کار ریاستی ڈیتھ اسکواڈ گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔
۔۔۔بلوچستان کے علاقے دالبندین میں ایک خاتون نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میری 14 سال کی بیٹی کو سیکورٹی اہلکار بلا وجہ اٹھا کر لے گئے۔انہوں نے کہا کہ ان میں ایک کا نام حفیظ ولد رحیم داد، محمد نور اور خالق داد تھا، ان کیساتھ کئی اور لوگ بھی تھے جن کا نام ہم نہیں جانتے۔
۔۔۔ہم لاشیں اٹھا اٹھاکر تھک چکے ہیں، شہید شہزاد بلوچ کے اہلخانہ کی پریس کانفرنس
بلوچستان کے علاقے زیارت میں فوجی آپریشن دوران جعلی مقابلے میں شہید کئے جانے والے9لاپتہ افراد میں شہزاد بلوچ بھی شامل تھے۔

20جولائی
۔۔۔بلوچستان کے علاقے خاران میں ایک اور شخص کوپاکستانی فورسز نے جبری طورپر لاپتہ کردیا ہے۔لاپتہ کئے جانے والے شخص کی شناخت خاران کے رہائشی غلام جیلانی حسین زئی سیاپاد کے نام سے ہوگئی ہے۔

21جولائی
۔۔۔افغانستان کے بلوچ اکثریتی صوبے نیمروز میں پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بلوچ مہاجرین پہ حملہ کیا جس کے نتیجے ایک نوجوان جلمب مری ولد ملک مری جانبحق ہوئے۔
جملب مری کا خاندان گذشتہ 10 سالوں سے افغانستان میں پناہ گزین کی زندگی گزار رہے ہیں۔دوسری جانب افغان حکومت کے اہلکاروں نے جملب مری پر حملے کے بعد 3 افراد کو گرفتار کیا جن پہ قتل اور منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
۔۔۔بلوچستان کے علاقے مستونگ کے کھڈکوچہ سے پاکستانی فورسز نے 4 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب رات تقریباً ڈھائی بجے کے قریب فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر کھڈکوچہ کے قبائلی رہنما و زمیندار حاجی میر جان محمد شاہوانی کے دو نوجوان بیٹے عطااللہ شاہوانی اور عبیداللہ شاہوانی اور ان کے دو کزن مجیب الرحمن شاہوانی اور عبدالخالق شاہوانی کو اٹھا کر نامعلوم مقام منتقل کردیئے۔
۔۔۔۔بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں زیارت میں جعلی مقابلے میں لاپتہ بلوچ افراد کو قتل کرنے کیخلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے خواتین، بچوں اور دیگر مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا۔مظاہرین ریلی کی صورت میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے ریڈ زون میں داخل ہوئے تو پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے ذریعے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔

22جولائی
۔۔۔ بلوچستان: 3 افراد لاپتہ، 4 بازیاب
ضلع کیچ کے تحصیل تمپ سے پاکستانی فورسز نے دو نوجوان سدیر ولد رحیم بخش اورنوید ولد حمید کو حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے۔ دونوں نوجوان آپس میں چچا زاد بھائی ہیں فورسز نے زبردستی انھیں حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے-
ادھر فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ ہونے والے تیسرے شخص کی شناخت بجار خان مری سکنہ کلی کمالو کے نام سے ہوئی ہے جسے دو روز قبل کوئٹہ مری آباد سے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا گیا ہے-
مستونگ سے گذشتہ دنوں فورسز کے ہاتھوں گھر پر چھاپے کے دوران جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد افراد عطااللہ شاہوانی اور عبیداللہ شاہوانی اور کزن مجیب الرحمن شاہوانی اور عبدالخالق شاہوانی آج بازیاب ہوکر اپنے پہنچ گئے ہیں –

23جولائی
بلوچستان کی امپورٹڈ حکومت کی خواتین وبچوں پر شیلنگ شرمناک ہے،بلوچستان بار
بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا کہ بلوچ نوجوان، خواتین اور بچے اپنے خاندان کے جبری لاپتہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کے لئے راست کے ناقص ادارے کے خلاف اپنا آئینی اور ایک پرامن احتجاج کر رہے تھے جس پر بلوچستان کے لاچار اور ریموٹ سے چلنے والی بے بس گورنمٹ نے اداروں کو خوش کرنے کے لئے انتظامیہ بھیج کر بچوں اور خواتین پر لاٹھی چارج، شیلنگ اور آنسو گیس برسائے جس سے بچے اور خواتین شدید زخمی ہوگئے۔

24 جولائی
بلوچ لاپتہ افراد کے جعلی مقابلے میں قتل کیخلاف اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ
بلوچ لاپتہ افراد کے جعلی مقابلے میں قتل کیخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں احتجاجی ریلی و مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرے میں بلوچ طلباء کی بڑی تعداد سمیت سول سوسائٹی، سندھی و پشتون طلباء نے بھی شرکت کی۔
۔۔۔ڈیرہ مراد جمالی سے فورسز ہاتھوں 2افراد جبراًلاپتہ
لاپتہ کئے گئے افراد کی شناخت اکبر ولد نواب خان اور جیسف ولد نواب خان کے ناموں سے ہوئی ہے۔

26جولائی
۔۔۔۔مستونگ و کولواہ سے 2لاشیں برآمد
بلوچستان کے علاقے مستونگ اور ضلع کیچ کے علاقے کولواہ سے 2لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
کولواہ سے ملنے والی لاش کے چہر ے کو مکمل مسخ کیا گیا ہے جس سے اس کی شناخت ممکن نہیں ہوپارہی ہے جبکہ مستونگ سے ملنے والی لاش کی شناخت عبداللہ ولد حضور بخش کے نام سے ہوگئی ہے۔ کیچ کے علاقے کولواہ شاپکول سے چار دن پرانی لاش برآمدہوئی۔


٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here