بلوچستان بھر کے کینسر کے مریضوں کیلئے سرکاری طور پر فراہم کی جانے والی ادویات کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔
مریضوں کی جانب سے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری صحت، سیکرٹری سماجی بہبود سے نوٹس لیکر فوری طور پر ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔
بلوچستان میں کینسر کے مریضوں کو بلوچستان عوامی انڈوومنٹ فنڈ کے تحت بی ایم سی اور سینار ہسپتال میں ادویات مفت فراہم کی جاتی ہیں تاہم گزشتہ ایک ماہ سے مریضوں کو ادویات کی فراہمی معطل ہوگئی ہے جس کی وجہ سے مریض شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
اس حوالے سے رابطہ کرنے پر حکام نے بتایا کہ محکمہ سماجی بہبود پر ادویات کی فراہمی کے 10کروڑ روپے واجب الادا ہیں جسکی وجہ سے ادویات فراہم کرنے والوں نے سپلائی روک دی ہے حکام نے بتایا کہ یہ رقم جون میں ریلیز کی جانی تھی تاہم اب تک یہ رقم ادا نہیں ہوئی اور اس حوالے سے اجرا کی گئی سمری کے متعلق بھی معلومات موجود نہیں ہیں۔
اس حوالے سے رابطہ کرنے پر مریضوں نے بتایا کہ وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں انکی ادویات کا ہر ماہ خرچ ایک لاکھ روپے سے زائد ہے جبکہ ادویات نہ ملنے کے باعث انکی حالت خراب ہونے کا اندیشہ موجود ہے مریضوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ کینسر کے مریضوں کو ادویات کی فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنا یا جائے۔