پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے سکھر میں دریائے سندھ سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔
گذشتہ روز بھی سکھر بیراج انتظامیہ کی جانب سے سکھر بیراج کے گیٹ نمبر 27.28.36.41.42.اور گیٹ نمبر 43 سے ہفتے کے روز مزید 7 نامعلوم لاشیں برآمد ہونے کی اطلاع دی گئی۔
ریسکیو ٹیموں نے اطلاع ملنے پر لاشیں ریسکیو کرکے اسپتال منتقل کی جہاں عدم شناخت کے باعث ایدھی سینٹر نے انہیں لاورث قرار دیکر تدفین کرنے کا بھی سلسلہ شروع کیا ہے۔
سکھر انتظامیہ کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد لاشیں پانی میں بہہ کر آتی ہیں۔ دو روز قبل پانچ لاشیں نکالی گئی تھیں مزید اطلاع پر ریسکیو ٹیم کو روانہ کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایدھی انفارمیشن ڈیسک کے مطابق سکھر بئراج کے گیٹوں سے برآمد ہونے والی نعشوں کو ایدھی ایمبولینس کے زریعے اسپتال روانہ کیا جارہا ہے اور پولیس قانونی کاروائی کے بعد نعشوں کو ورثاء نہ ملنے کے بعد لاواث میت تدفین کو ایدھی سینٹر سکھر میں میت کو غسل وکفن دے کر نماز جنازہ ادا کر کے روہڑی پولیس کی نگرانی میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا جارہا ہے۔
واضع رہے کہ بلوچستان و سندھ سمیت خیبرپختونخوا میں جبری گمشدگیوں میں اضافے کے پیش نذر لاپتہ افراد کے لواحقین سکھر بیراج سمیت کئی بھی لاشوں کی برآمدگی سے سہم جاتے ہیں۔
حالیہ سکھر بیراج میں لاشوں کی برآمدگی سے لاپتہ لواحقین کو خدشہ ہے کہیں وہ لاشیں انکی پیاروں کی نہ ہوں کیونکہ اس سے قبل بھی لاپتہ افراد کی لاشیں ندی نالوں،ویرانوں اورسڑک کناروں مسخ اور گلی سڑی صورت میں پڑی ملی تھیں۔