کوئٹہ:جعلی مقابلے میں مارے جانیوالے افراد کے لواحقین کادھرنادوسرے روز جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مارے جانیوالے افراد کے لواحقین کادھرناگورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس سامنے دوسرے روز جاری ہے۔

گذشتہ روزلاپتہ افراد کے لواحقین کی پر امن ریلی کی شکل میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کوئٹہ کے ریڈ زون میں داخل ہوئے تو پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے ذریعے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔

پولیس کی جانب سے نہتے اور پر امن مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ان پرلاٹھی چارج کرکے تشدد کا نشانہ بنایاگیاجس سے کئی خواتین و بچے تشدد اور آنسو گیس لگنے سے زخمی اور بے ہوش ہوگئے تھے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کی حالت آنسو گیس لگنے اور تشدد سے غیر ہوگئی تھی۔

ریاستی بربریت و تشدد کاسامنا کرتے ہوئے لواحقین نے اپنے پیاروں کی جعلی مقابلے میں قتل اورجبری گمشدگیوں کیخلاف دھرنا کو جاری رکھا جو آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔جس میں خواتین سمیت شیر خوار بچے بھی شامل ہیں۔

دھرنامظاہرین نے اپنے مطالبات کی منظور ی تک جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ زیارت واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دی جائے۔ تمام بلوچ جبری لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے۔اور تمام جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کو یقین دہانی کرایا جائے کہ کوئی بھی لاپتہ فرد جعلی مقابلے میں نہیں مارا جائے گا۔

واضع رہے کہ 12جولائی کو بلوچ آزادی پسند تنظیم ”بی ایل اے“کے ہاتھوں پاکستا نی فوج کے ایک کرنل و اسکے کزن کے اغوا و ہلاکت کے بعد فوج نے ایک جعلی مقابلے میں 9افراد کو قتل کرکے انہیں بطور جنگجو ظاہر کیا تھالیکن بعد ازاں ان کی شناخت لاپتہ افراد کے طور پر سامنے آئی ہے جس پر بلوچ حلقوں میں اس جعلی مقابلے پرپاکستانی فوج کو نہ صرف شدید تنقید کا سامنا ہے بلکہ اس کے خلاف کوئٹہ کے ریڈ زون میں لواحقین کا دھرنا جاری ہے۔

Share This Article
Leave a Comment