بلوچستان کے علاقے دالبندین میں ایک خاتون نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میری 14 سال کی بیٹی کو سیکورٹی اہلکار بلا وجہ اٹھا کر لے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اغواء کار وردی میں ملبوس تھے اور خود کو سیکورٹی اہلکار ظاہر کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں ایک کا نام حفیظ ولد رحیم داد، محمد نور اور خالق داد تھا، ان کیساتھ کئی اور لوگ بھی تھے جن کا نام ہم نہیں جانتے۔
انہوں نے کہا کہ دالبندین میں کچھ لوگ ایف سی کی وردی پہن کر اور خود کو ایف سی کا اہلکار ظاہر کرکے گھروں میں داخل ہوکر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں۔
انہوں نے مقتدر حلقوں اور انصاف فراہم کرنیوالے اداروں سے مطالبہ کیا کہ میری 14 سالہ بیٹی کو بازیاب نہیں کرایا گیا تو میں اقدام خودکشی کروں گی۔
واضع رہے کہ گذشتہ روز چاغی سے ایک شخص اپنی فیملی کے ساتھ کوئٹہ پریس کلب پہنچ گئی اور ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ان کی ساتھ سالہ بیٹی کو اغوا کرنا چاہتے ہیں اسی لئے وہ انصاف کیلئے کوئٹہ پہنچ گئے تاکہ اپنی فیملی کو محفوظ کرسکوں۔
بلوچستان میں پاکستانی فوج کی زیر سرپرستی میں ریاستی ڈیتھ کو اغوا برائے تاوان، جبری گمشدگیوں، جنسی زیادتی و دیگر سماجی برائیوں میں مکمل چھوٹ دی گئی ہے۔