امریکا یوکرین کومزید 40 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد بھیجے گا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

امریکا نے یوکرین کے لیے مزید 40 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد بھیجنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ڈونباس کے علاقے میں روسی جارحیت کے مقابلے کے لیے یوکرین کو جدید ہتھیار فراہم کرنا ہے۔

امریکی حکام نے جمعے کو بتایا کہ 40 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد میں چار جدید آرٹلری راکٹ سسٹم (ہیمارس) اور اہداف کو مہارت کے ساتھ نشانہ بنانے والے 155 ملی میٹر کے ایک ہزار آرٹلری راؤنڈز شامل ہیں۔ کیف کو اس سے قبل امریکہ نے اس نوعیت کے ہتھیار فراہم نہیں کیے تھے۔

راکٹ سسٹم ہیمارس برق رفتاری کے ساتھ پوزیشنز بدلنے اور اہداف کو ٹھیک نشانہ لگانے کی صلاحیت سے لیس ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جمعے کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ہتھیار جدید اور اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیتوں سے لیس ہیں۔

اہل کار کا کہنا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یوکرینی افواج ان ہتھیاروں کا بہتر استعمال کرنے میں کامیاب ہوں گی کیوں اب تک یہ ہتھیار میدان جنگ میں بہت کامیاب رہے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے ہتھیاروں کی فراہمی پر یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے صدر بائیڈن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یوکرین کو روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

ایک ٹویٹ میں زیلنسکی کا کہنا تھا کہ اس امداد سے دُشمن پر دباؤ ڈالنے میں مدد ملے گی۔

امریکی حکام پراُمید ہیں کہ ہیمارس آرٹلری سسٹم کی فراہمی سے یوکرین کو اپنے دفاع میں مدد ملے گی اور اس کی وجہ سے باقی ماندہ اسلحے کی بچت ہو سکے گی۔

خیال رہے کہ کیف پر قبضے میں ناکامی کے بعد روس ڈونباس کے صنعتی علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ شہر روسی فورسز کی تازہ ترین کارروائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اہل کار کا کہنا تھا کہ اس وقت یوکرین کو جس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ حوصلہ ہے جو انہیں لڑائی جاری رکھنے میں مدد دے گا۔ لہذٰا امریکہ کی یہ فوجی امداد اسی لیے ہے تاکہ روس کو یہ تاثر نہ ملے کہ یوکرین اس جنگ سے تھک چکا ہے بلکہ وہ یہ لڑائی جاری رکھے گا۔

اس سے قبل بھی امریکہ نے یوکرینی افواج کو آٹھ ہیمارس آرٹلری سسٹم فراہم کیے تھے۔ امریکی حکام نے اس نظام کے درست استعمال پر یوکرینی فوج کی تعریف بھی کی تھی۔ اس کی وجہ سے ڈونباس میں روس کی پیش قدمی کو روکنے میں خاطر خواہ مدد ملی تھی۔

محکمہ دفاع کے ایک اور اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”ہم جانتے ہیں کہ یوکرین ہیمارس کے ذریعے ایسے اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے جن کا میدان جنگ میں نتیجہ پلٹنے میں اہم کردار ہے۔”

اُن کا کہنا تھا کہ یوکرینی افواج روس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، سپلائی لائن اور اسلحہ خانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جس کا لا محالہ اثر فرنٹ لائن پر روس کو پہنچنے والی کمک پر پڑ رہا ہے۔

امریکی دفاعی اہل کاروں کا مزید کہنا تھا کہ اب تک یوکرین کے 100 کے لگ بھگ فوجی اہل کار ‘ہیمارس’ سسٹم کو استعمال کرنے کی ٹریننگ حاصل کر چکے ہیں۔لہذٰا امریکہ مستقبل میں بھی ‘ہیمارس’ کے علاوہ یوکرین کو دیگر جدید ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے گا۔

Share This Article
Leave a Comment