ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کے ایک شاپنگ مال میں فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں دہشت گردی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
کوپن ہیگن پولیس کے سربراہ سورین تھامسن نے بتایا کہ ایک 22 سالہ نوجوان کو اس حملے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ مقصد واضح نہیں، لیکن یہ ’دہشت گردی کی کارروائی‘ ہو سکتی ہے۔
اس شاپنگ مال، جو کہ ڈنمارک کے بڑے شاپنگ سینٹرز میں شمار ہوتا ہے، میں یہ حملہ اتوار کو ہوا۔
فیلڈز مال میں کل 140 دکانیں اور ریسٹورنٹس ہیں اور یہ دارالحکومت کے نواح میں۔ یہ سب وے لائن کے قریب ہے جو اسے شہر کے مرکز سے ملاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی فوٹیجز میں جائے وقوعہ کی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے جہاں لوگوں میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے اور خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک مقامی ٹی وی چینل کے حوالے سے خبر دی ہے، جس سے گفتگو میں شاپنگ مال میں موجود ایک خاتون اسابیلا نے بتایا کہ ’میں نے 10 بار گولی چلنے کی آواز سنی، ہم جتنا تیز بھاگ سکتے تھے، بھاگے اور ٹوائلٹ میں پناہ لی۔‘
کوپن ہیگن پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کہ تین افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
پولیس نے مبینہ حملہ آور کو گرفتار کیا تو اس کے پاس رائفل اور دیگر آتشیں مواد موجود تھا۔
کوپن ہیگن پولیس کے سربراہ سورین تھوماسن کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو پیر کو عدالت میں پوچھ گچھ کے لیے جج کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ڈنمارک کے شاہی خاندان نے ایک استقبالیہ بھی منسوخ کر دیا جس کی میزبانی کراؤن پرنس فریڈرک نے کرنا تھی۔ حکام کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی جا رہی ہے اور متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ڈنمارک میں 2015 کے دوراین کوپن ہیگن میں ہی ایک ثقافتی مرکز اور عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔