آواران، کوئٹہ وبارکھان میں ٹریفک حادثات و ہیضہ سے 7افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read
The dead man's body. Focus on hand

بلوچستان کے علاقے آواران، کوئٹہ اور بارکھان میں ٹریفک حادثات و ہیضہ سے خواتین وبچے سمیت7افراد ہلاک ہوگئے۔

ضلع آواران کے علاقے بزداد میں باراتیوں کی گاڑی کو حادثہ پیش آنے سے 3افرادہلاک جبکہ 26 زخمی ہوگئے۔

آواران لیویز کے مطابق ہفتہ کے روز گیارہ بجے کے قریب آواران کے علاقے بزداد سے مالار جانے والی باراتیوں سے بھری زمباد پک اپ گاڑی جس کا ٹائر پھٹنے ہونے کے باعث ڈرائیور سے بے قابو ہوکر الٹ گئی جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے جس میں دو خواتین اور ایک مرد شامل ہے اور 26 افراد زخمی ہوئے۔

زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال آواران منتقل کیا گیا جن میں شدید زخمیوں کو کراچی منتقل کردیا گیا۔

اسی طرح کوئٹہ میں ٹریفک حادثے میں 2افرادہلاک،جبکہ 6زخمی ہو گئے۔

پو لیس کے مطابق ہفتہ کو کوئٹہ کے علا قے ڈبل روڈ پر تیز رفتاری کے باعث گاڑی بے قابو ہو کر الٹ گئے جس کے نتیجے میں سڑک کنارے بیٹھے شخص سمیت 2افرادہلاک جبکہ 6افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس نے لاشوں اور زخمیوں کو فوری طوپر ہسپتال منتقل کر دیا جہاں ضروری کارروائی کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔

دوسری جانب ضلع بارکھان میں گزشتہ روز اچانک ایک بار پھر سے ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑی۔

ضلع بارکھان کے شہری اور نواحی علاقوں میں گزشتہ روز ایک بار پھر سے ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑنے سے سینکڑوں افراد کی حالت غیر ہوگئی جنہیں بارکھان سمیت ڈیرہ غازی خان اور ملتان کے ہسپتالوں میں ریفر کردیا گیا ہے جبکہ ہیضہ سے 6سالہ بچہ احمد خان اور صدف حیات ہلاک ہوگئے ہیں جن کے ورثا کے مطابق ان کی حالت اتنی غیر ہوگئی کہ وہ ہسپتال بھی نہیں پہنچ سکے تاہم دوسری جانب ضلع کے شہری اور قریبی نواحی علاقوں سے ہیضہ سے متاثرہ مریضوں کی بڑی تعداد نے سرکاری و نجی ہسپتال کا روخ کرلیا جہاں سرکاری ہسپتال میں طبی عملہ اور بنیادی سہولیات ناپید ہونے کی وجہ سے مریضوں کیلئے جگہ کم پڑ گئی۔

مریضوں نے خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دست،الٹی کی شکایات اور علامات ہیں تاہم ہسپتال میں بھی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں انہیں ملتان اور ڈی جی خان کی جانب روخ کرنا پڑ رہا ہے جس سے جہاں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا وہی اضافی اخرجات بھی برداشت کرنے ہوں گے۔

ضلع سے مریضوں کی بڑی تعداد ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے نجی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور دو درجن کے قریب مریض اپنا علاج معالجہ ڈسٹرکٹ ہسپتال بارکھان میں کررہے ہیں۔
ڈاکٹر امان اللہ کھیتران کے مطابق ہیضہ کی بیماری اچانک گرم موسم اور کئی علاقوں میں آلودہ وگرم پانی پینے کی وجہ سے پھیلی ہے جس میں مریضوں کے علاج کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment