بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں جبری لاپتہ بلوچ طلبا کے لواحقین نے سی پیک روڈ کو ڈی بلوچ کے مقام پر دھرنا دیکر احتجاجاًبند کردیا ہے۔
دھرنے کے باعث دونوں طرف ٹریفک کی آمدو رفت معطل ہوگئی ہے۔
احتجاج میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ اور دیگر لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام لاپتہ بلوچ افراد کو بازیاب کروایا جائے۔
دھرنا مظاہرین کا کہناہے کہ طالب علم نعیم رحمت ساکن شاپک لو 17 مارچ 2022 ء اور شفیق ولد دلدار سکند شاہ آباد آپسر کو 7 مارچ 2022 ء کو لاپت لیا گیا تھا اس کے علاوہ دیگر نوجوان لاپتہ ہیں جن کی بازیابی کیلئے انتظامی افسران نے ملاقاتوں کے دوران کچھ دنوں کی مہلت مانگی تھی مگر ملت گزرنے کے باوجود ان کی بازیابی کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جس کے خلاف آج لواحقین نے تربت ڈی بلوچ کے مقام پر احتجاجا تربت ٹو گوادر اور کراچی شاہراہ پر احتجاجی کیمپ لگاکر دھرنا شروع کردیا ہے۔
احتجاجی مظاہرین کے مطابق جبری لاپتہ افراد کی رہائی تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔