پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ لاپتا افراد مارے گئے اور کچھ بھارت اور کلبھوشن یادیو سے رابطوں میں تھے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر نے یہ دعویٰ ڈان نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا جو اتوار کی رات نشر ہوا تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ’ان (لاپتا افراد) میں سے کچھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں مارے گئے جن کے لکبھوشن یادیو یا ہمسایہ ممالک سے رابطے میں تھے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی جاسوس جسے پاکستان میں مقدمے کا سامنا ہے، اس نے غریب لوگوں کا استحصال کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ’عمومی طور پر غریب لوگوں کو ملا کر انہیں رقم کا لالچ دیا جاتا ہے‘۔
ریاض پیرزادہ کے مطابق کچھ لاپتا افراد نے ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔
انہوں نے لاپتا افراد کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعات بعد فورسز ایکشن میں آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب ریاستی ادارے کارروائیاں کرتے ہیں تو تنقید کی جاتی ہے، لوگ احتجاج کرنا شروع ہردیتے ہیں اور لاپتا افراد کا معاملہ سامنے آجاتا ہے‘۔
ریاض پیرزادہ کا نقطہ نظر تھا کہ کمیشن کے بجائے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کو لاپتا افراد کے معاملے سے نمٹنا چاہیے۔