انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے کراچی میں گذشتہ رات لاپتہ بلوچ طالب علموں کی بازیابی کیلئے پر امن احتجاج کرنے والے مظاہرین پر سمدھ پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے بلوچ طلباء کو غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھا کر کسی مجاز عدالت میں پیش کرنے کے غائب کر دیا ہے۔
اور ان کی بازیابی کے لیے طلباء پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے تھے تو ان کو بغیر جواز مارا پیٹا گیا۔
واضع رہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں گذشتہ شب پولیس نے سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ بلوچ طلبہ کی بازیابی کے لیے سندھ اسمبلی کے سامنے جاری احتجاج میں شریک خواتین و بچوں سمیت مرد افراد کو منتشر کرنے کے لیے ان پر تشدد کیا جس میں شیر خوار بچے بھی زخمی ہوگئے۔
پولیس کارروائی کے دوران انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافی اور لاپتہ بلوچ افراد کے اہل خانہ سمیت 28 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جنھیں اب رہا کر دیا گیا ہے۔