ضلع آواران: مشکے سے ایک اوربلوچ خاتون اغوا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع آواران میں ایک اور بلوچ خاتون کو اغوا کرلیا گیا۔

سنگر کو ملنے والی اطلاعات کے ضلع آواران کی تحصیل مشکے کے علاقے تنک سے 28مئی 2022 کوریاستی حمایت یافتہ مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے نذیر ولد حضوربخش نے مالدار حکیم نامی شخص کے گھر میں گھس کر ان کے بہو کو جبراً اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اغواکی گئی خاتون مالدار حکیم کے بیٹے کی بیوی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس سے قبل مذکورہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کارندہ مالدار حکیم کے گھر سے لاکھوں روپے نقدی پیسے اور دیگر قیمتی اشیا لوٹ کر فرار ہونے میں بھی ملوث تھے۔

ذرائع سنگر کو بتاتے ہیں کہ اس دفعہ خاتون کی اغوا کے بعد مالدارحکیم سمیت تمام گھروالوں کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

مقامی ذرائع مزید انکشاف کرتے ہیں کہ خاتون کو تنک سے اغوا کرنے کے بعد مذکورہ اغوا کارنے مشکے میانی قلات میں ایک اور ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کارندے عبدالخالق ولد مولابخش کے گھر میں حبس بیجامیں رکھا گیاہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ عبدالخالق ولد مولابخش راگے سکن کے رہائشی ہے جو آج کل مشکے میں نذیر خداداد، گمانی سرور ودیگر کے ساتھ علی حیدر محمدحسنی اور مہراللہ محمدحسنی کی سرپرستی میں اغوا برائے تاوان،جبری گمشدگیوں اور قتل وغارت گری سمیت دیگر سماجی برائیوں میں براہ راست ملوث ہیں۔اور اس گروہ کو پاکستانی فوج اور ضلعی انتظامیہ سمیت تحصیل انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

واضع رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی سیکورٹی فورسز سمیت ان کی سرپرستی میں سرگرم گروہ خواتین کی جبری گمشدگیوں، اغوابرائے تاوان،قتل،جنسی زیادتی اوردیگر سماجی برائیوں میں براہ راست ملوث ہیں لیکن کراچی میں چینی اساتذہ پر شاری بلوچ کی فدائی حملے کے بعد اس عمل میں بہت تیزی آئی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment