کٹھ پتلی وزیراعلیٰ پلوچستان جام کمال نے وفاقی حکومت، نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دیگر صوبائی حکومتوں پر ایران سے واپس آنے والے زائرین کی تفتان بارڈر پر موجود قرنطینہ سینٹرز میں منتقلی سے بلوچستان میں پیدا ہونے والی صورتحال پر مطلوبہ مدد فراہم نہ کرنے کا الزام لگادیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے بارڈر پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے وسائل کا استعمال کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تفتان بارڈر پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابھی تک وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی مالی مدد نہیں ملی جبکہ این ڈی ایم اے نے اب تک صرف 1200 خیمے، کمبل اور پلاسٹک شیٹس مہیا کیں۔
جام کمال نے بتایا کہ بلوچستان کی حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے انتظامات کے لیے
اب تک 2 ارب روپے جاری کرچکی ہے۔