کراچی ایئر پورٹ پرمبینہ بلوچ خاتون خودکش بمبار کے ممکنہ حملے کا الرٹ جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کے مرکزی شہر کراچی میں ایئرپورٹ پرمبینہ بلوچ خاتون خودکش بمبار کے ممکنہ حملے کا الرٹ جاری کرتے ہوئے ایئرپورٹ پر سیکورٹی کے سخت اقدامات کردیئے گئے۔

ایئرپورٹ کے سیکورٹی فورس کی جانب سے مبینہ بلوچ خاتون خودکش بمبار کی جانب سے ممکنہ حملے کے پیش نظر سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن شاہ میر حسین کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے میں تمام متعلقہ افسران کو آگاہ کرکے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع کیچ کی رہائشی خاتون ایئرپورٹ سمیت حساس تنصیبات کو نشانہ بناسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق مراسلے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مبینہ خاتون بمبار کی شناخت زالیا دختر محمد حیات زوجہ شعیب کی حیثیت سے ظاہر کی گئی ہے جس کے بارے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس کا تعلق ایک مسلح کالعدم تنظیم سے ہے اور وہ کراچی یونیورسٹی میں حملہ کرنے والی شاری بلوچ سے کافی متاثر ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ الرٹ موصول ہوتے ہی ایئر پورٹ پر سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

واضع رہے کہ 26اپریل کو کراچی میں چینی اساتذہ پرایک بلوچ خاتون شاری بلوچ نے ایک فدائی حملہ کیا تھا جس سے تین چینیوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔اور بعد ازاں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم ”بی ایل اے“ نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی اور اپنے جاری بیان میں کہا کہ شاری بلوچ مجید بریگیڈ کا ایک فدائی تھا۔اوراس وقت بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ کے درجنوں اعلیٰ تربیت یافتہ مرد و خواتین فدائین مہلک حملوں کیلئے مکمل تیار ہیں۔ جو پوری بلوچستان سمیت پاکستان کے کسی بھی شہر میں بڑے پیمانے کے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کراچی میں چینی اساتذہ پر فدائی حملے کے بعدپاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد،لاہور، کراچی سمیت بلوچستان بھر میں متعددبلوچ طلبا اور بلوچ خواتین کو پاکستانی خفیہ اداروں نے حراست میں لیکر لاپتہ کیا اور تب سے بلوچ خواتین کی سخت نگرانی شروع کی گئی ہے۔

بلوچستان کے بعض سیاسی حلقے کراچی ایئر پورٹ پر بلوچ خاتون بمبار کی ممکنہ حملے کی خبر کوپاکستانی سیکورٹی اداروں کی جانب سے ایک پروپگنڈہ قرار دے رہے ہیں تاکہ بلوچ خواتین کو ہراساں کیا جاسکے اور ان کی نگرانی کو سخت سے سخت کیا جاسکے۔

ان حلقوں کاکہنا ہے کہ اگرپاکستا ن کے سیکورٹی ادارے اتنے باخبر ہیں تواسے پکڑ سکتے ہیں۔ خاتون کا نام ایکسپوز کرکے وہ بس چین کومطمئن اوراپنی سیکورٹی انتظامات کومنوانا چاہتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment