متحدہ عرب امارات کے سٹی دوبئی میں رواں سال 27 جنوری کو لاپتہ ہونے والے عبدالحفیظ زہری کو کراچی کے ایک جیل میں ظاہر کردیا گیاہے۔
اس بات کی تصدیق عبدالحفیظ زہری کے ہمشیرہ بی بی فاطمہ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کا ’بھائی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک جیل میں ہے لیکن ہمارے لیے یہ بہت بڑی بات ہے کہ ان کا پتہ چل گیا اور ان کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیاہے۔‘
بی بی فاطمہ کا کہنا تھا کہ’اگر معمولی چیز گم ہونے کے بعد مل جائے تو لوگوں کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی لیکن ہمارا تو بھائی مل گیا جو کہ ہمارے لیے اتنی بڑی خوشی ہے جس کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’چھوٹے بھائی کی جبری گمشدگی کے بعد لاش ملنے اور والد کے قتل کے بعد بڑے بھائی کا لاپتہ ہونا ہمارے خاندان کے لیے دکھ اور غم کا پہاڑ لے آیا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ وہ مل گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ بیرون ملک سے حراست میں لیے جانے کے باوجود کراچی میں ان کے بھائی کے خلاف بے بنیاد مقدمہ قائم کیا گیا لیکن مجھے امید ہے کہ عدالتوں سے ان کو جلد رہائی مل جائے گی۔
بی بی فاطمہ نے بتایا کہ عبدالحفیظ چند سال قبل بلوچستان سے دبئی منتقل ہوئے اور وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ دبئی کے انٹرنیشنل سٹی میں رہائش پذیر تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ’عبدالحفیظ کو رواں سال 27 جنوری کی شب اس وقت ان کے فلیٹس کی پارکنگ ایریا سے وہاں کے حکام نے حراست میں لیا تھا جب وہ واپس گھر آ رہے تھے۔‘
انھوں نیکہا کہ ’بعد میں اتنا معلوم ہوا کہ انھیں دبئی سے پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا لیکن ان کا یہاں کوئی سراغ نہیں ملا۔‘
’ہم نے ان کا پتا لگانے کے لیے پاکستان میں ہر اس در پر دستک دی جہاں پر جانا ہمارے خاندان کے لوگوں کے بس میں تھا لیکن ہمیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا تاہم اندازاً ڈھائی ماہ بعد ہمیں ان کا سراغ ملا۔‘
بی بی فاطمہ نے بتایا کہ جب ہمیں ان کے بارے میں پتہ نہیں چلا تو ہم نے سندھ ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی جو کہ 29 مارچ 2022 کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ 14 اپریل کو جب ان کی گمشدگی کی درخواست کی سماعت ہوئی تو ہائیکورٹ کو آگاہ کیا گیا کہ انھیں سی ٹی ڈی نے کراچی سے گرفتار کیا ہے اور انھیں سینٹرل جیل کراچی منتقل کیا گیا ہے۔
بی بی فاطمہ نے کہا کہ ’اگرچہ بھائی کے خلاف بے بنیاد مقدمہ قائم کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں وہ جیل میں ہے لیکن یہ خوشی کی بہت بڑی خبر تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا سراغ مل گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ان معلومات کے بعد ہم سینٹرل جیل گئے اور بھائی کو اپنے آنکھوں سے بھی دیکھا جہاں وہ خیریت سے تھے۔‘
’ہمارے خاندان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ ایسے میں لاپتہ بھائی کے سامنے ہونے پر میرے اور خاندان کے دیگر لوگوں کے جو جذبات تھے ان کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہوا کہ بھائی کو ایک خصوصی طیارے میں دبئی سے دو فروری کراچی منتقل کیا گیا اور ان سے یہاں تفتیش کیا گیا اور بعد میں ان کو 11 اپریل کو سینٹرل جیل کراچی منتقل کیا گیا۔‘
عبدالحفیظ کے خلاف سی ٹی ڈی تھانہ ضلع جنوبی کراچی میں سندھ اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ان کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق ان کو 31مار چ 2022 کو مبارک شہید روڈ سے گرفتار کیا گیا اور ان سے ایک 30 بور کا پسٹل اور گولیاں برآمد کی گئیں۔
جبکہ سی ٹی ڈی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں اس سلسلے میں 14 اپریل کو جو جواب جمع کیا گیا ہے اس کے مطابق لاپتہ عبدالحفیظ کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف دو دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
بی بی فاطمہ نے کہا کہ ان کا بھائی بے قصور ہے اور ہمیں توقع ہے کہ عدالتوں سے ہمیں انصاف ملے گا اور بھائی کی رہائی ملے گی۔