معاہدے کے باوجود غازی یونیورسٹی میں بلوچ طلبا کو بحال نہیں کیا گیا،بساک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بساک) ڈی جی خان زون نے اپنے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ غازی یونیورسٹی کی جانب سے آٹھ بلوچ طالبعلموں کی بحالی کے حوالے سے تاخیر طلباء کی تعلیمی کیرئیر تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ غازی یونیورسٹی کی جانب سے ایک اسٹڈی سرکل کی پاداش میں آٹھ بلوچ طالبعلموں سمیت ایک بلوچ پروفیسر کو یونیورسٹی سے بے دخل کر دیا گیا تھا جس کے بعد طلباء نے پورے بیس دن بحالی کے لیے تمام متعلقہ پلیٹ فارمز اور قانون کے تمام دروزے کھٹکٹھائے۔ لیکن کسی بھی قسم کی شنوائی نہ ہونے کے بعد طلبا ء نے شدید گرمی میں غازی یونیورسٹی کے سامنے تین دن آحتجاجی دھرنا بھی دیا۔ احتجاجی دھرنے کے تیسرے دن ضلعی انتظامیہ کی جانب سے طلباء و طالبات کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا گیا کہ سوموار کے دن تک تمام پراسس کو پورا کرکے طلبا ء و طالبات کو بحال کیا جائے گا۔ لیکن ضلعی انتظامیہ کی تحریری معاہدے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور ہیلے بہانوں سے طلبا ء طالبات کی تعلیمی کیرئیر تباہ کرنا چاہتی ہے۔

کل سوموار کے دن یونیورسٹی کی جانب سے ڈسپلنری کمیٹی میں تمام طالبعلموں کو طلب کیا گیا اور تمام طالبعلموں نے پیش ہو کر اپنا موقف کمیٹی کے سامنے رکھا۔ جس کے بعد انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ شام تک بحالی نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔

لیکن بد قسمتی سے دو دن گزرنے کے باوجود؛ طلبا ء و طالبات کی جانب سے تمام پراس پورا کرنے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ حیلے بہانوں سے کام لے رہی ہے اور طالبعلموں کی بحالی میں تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔ ان طالبعلموں کے مڈ ٹرم امتحانات ہورہے ہیں اور آٹھ بلوچ طالبعلم دو پیپرز یونیورسٹی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کے باعث نہیں دے سکے۔ اور اس وقت طلبا ء و طالبات شدید مایوسی اور ذہنی کوفت میں مبتلاہیں۔

اس پریس ریلیز کے توسط سے غازی یونیورسٹی انتظامیہ کو آج شام تک کی ڈیڈلائین دیتے ہیں کہ وہ جلد از جلد تمام طالبعلموں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن نکال کر ان طالبعلموں کو شدید ذہنی کوفت سے نکالیں اور ان کے تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچائیں بصورت دیگر اپنے احتجاج کے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے کل سے یونیورسٹی کے تمام دروزوں پر دھرنا دیا جائے گا اور آٹھ طالبعلموں کی بحالی کے بغیر یونیورسٹی میں کسی قسم کے امتحانات کا انعقاد نہیں ہونے دیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment