کوئٹہ سے پاکستانی فورسز نے2 طالب علم جبری لاپتہ کردیئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے پاکستانی فورسز نے 2 طالب علموں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جن میں ایک کی عمر 15 سال بتائی جارہی ہے۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کے منظم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق کوئٹہ کے رہائشی لواحقین نے تنظیم سے شکایت کی کہ پاکستانی فورسز نے 15 سالہ نوجوان حسنین بلوچ ولد بابل جان کو تحویل میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے۔

تنظیم کے مطابق حسنین بلوچ ایک طالب ہیں جنھیں گذشتہ روز 3 فروری کو کلی اضغر آباد سریاب کسٹم کوئٹہ سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

تنظیم نے حکومت اور سیکورٹی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالب علم کو فوری طور پر منظرعام پر لاکر بازیاب کریں۔

دوسرے لاپتہ کئے گئے طالب علم کی شناخت اسد اللہ ولد ظفر اللہ کرد کے نام سے ہو گئی ہے۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

پچیس سالہ اسد اللہ ولد ظفر اللہ کرد بلوچستان یونیورسٹی میں بی ایس کے طالب علم ہیں۔

خاندانی ذرائع کے مطابق اسد اللہ کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کوئٹہ کے علاقے بروری روڈ سے حراست میں لیا گیا۔

اہل خانہ کے مطابق رات گئے سادہ لباس میں ملبوس افراد، جن کی شناخت سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) کے اہلکاروں کے طور پر کی گئی، ان کے گھر پہنچے اور اسد اللہ کو اپنے ہمراہ لے گئے۔

خاندان کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے بعد سے انہیں کسی تھانے یا متعلقہ ادارے کی جانب سے کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی اسد اللہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں کوئی معلومات دی جا رہی ہیں۔

بلوچستان میں اس سے قبل بھی جبری گمشدگیوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن پر انسانی حقوق کی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرتی آئی ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین اکثر حکام پر غیر قانونی حراست اور ماورائے عدالت اقدامات کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

Share This Article