پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں دیرپا امن کی بحالی کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں جلد ہی اسلام آباد میں علاقے کے عمائدین کا ایک گرینڈ جرگہ بلائیں گے تاکہ موجودہ صورتحال کا کوئی حل نکالا جا سکے۔
گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ پہنچے اور عثمان زئی قبیلے کے عمائدین سے خطاب کیا، سینئر سول و ملٹری حکام اور علاقے کے عمائدین نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور، وزیراعظم کے مشیر امیر مقام اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ بھی موجود تھے، اس موقع پر خیبرپختونخوا کے قائم مقام گورنر مشتاق احمد غنی اور وزیراعلیٰ محمود خان کی غیر حاضری نمایاں تھی۔
حکام کے مطابق کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیراعظم کو علاقے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے لوگوں نے مصائب برداشت کیے اور مادر وطن کے لیے بے مثال قربانیاں دیں، حکومت ان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کرے گی۔
محسن داوڑ کے مطالبے پر وزیراعظم نے شمالی وزیرستان میں یونیورسٹی، میڈیکل کالج، موبائل ہسپتال اور دانش سکول کے قیام کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ جلد ہی ضلع کے لیے مزید ترقیاتی اسکیموں کا اعلان کریں گے۔
انہوں نے پرامن اور خوشحال پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت کرنے پر قبائلی عمائدین کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ثمرات کے طور پر مقامی آبادی کو سکون کی فراہمی اور سماجی و اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
اس موقع پر وزیر ستان کے سربراہ ملک نصراللہ خان وزیر نے وزیر اعظم کی توجہ افغانستان میں وزیرستان کے بے گھر افراد پر ہونے والی حالیہ بمباری کی طرف مبذول کراتے ہوئے زور دیا کہ وہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔
میران شاہ پہنچنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
وزیراعظم کو سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں سرحد پار سے عسکریت پسندی کی کارروائیوں پر خصوصی توجہ دی گئی، انہیں سرحد پر باڑ لگانے کی صورتحال سمیت مغربی بارڈر مینجمنٹ سسٹم کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔