وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کااحتجاجی کیمپ پہلی مرتبہ بند کردیا ہے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جیسا کہ کورونا وائرس پوری دنیا میں پھیل چکاہے جس کے حوالے سے پوری دنیا اپنے لوگوں کو بچانے کے لئے انتظامات اٹھارہی ہے،اس وجہ سے ہم نے تنظیمی سطح پرلواحقین سے بات چیت اوراتفاق رائے کے بعد ہم انسانی ہمدردی کے بنیادوں پر پوری دنیا اور حکومت بلوچستان کے لاک ڈاؤن کا پابندی کرتے ہوئے اپنے کیمپ غیر معینہ مدت کے لئے بند کررہے ہیں اورجس طرح حکومت پاکستان نے چار اپریل تک لاک ڈاؤن کا اعلان کردیاہے تو ہم بھی حالات کا جائزہ لے کر دوبارہ اپنی کیمپ کھولیں گے۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ میں حکومت پاکستان اور ملکی اداروں سے اپیل کرتاہوں کہ کوروناوائرس کی وباکی وجہ سے اورانسانی ہمدری کے بنیاد پر تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیاجائے تاکہ بلوچستان میں جو نفرت اور غم و غصہ پایاجاتاہے اس کو کم کیاجائے اورہم امید کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان ریاستی ادارے ہمارے اس پیغام پر عمل درآمد کریں گے اورلاپتہ افراد کو بازیاب کرکے خاندانوں کو ذہنی اذیت سے نجات دلائیں گے۔
پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے پچھلے گیارہ سالوں سے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ہمارا بھوک ہڑتالی کیمپ چاہے سردی ہو بارش ہو یا آندھی و طوفان بلا ناغہ جاری ہے۔ہم شالکوٹ کی شدید سرد موسم و برف باری کی وجہ سے سردیوں میں اپنے کیمپ کو اکثر 3 مہینے کیلئے کراچی منتقل کرتھے ہیں۔لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہم نے کوئٹہ تا کراچی اور کراچی سے اسلام آبادتک 3000 کلومیٹر پیدل لانگ مارچ بھی کیا۔ان گیارہ سالوں کے دوران ہم نے تمام ملکی و عالمی قوانین کا نہ صرف خیال رکھا بلکہ سختی سے ان قوانین کی پابندی کی۔
ماماقدیر بلوچ نے کہا کہ مگر بدقسمتی سے پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیاں ہر قدم پر از خود ملکی اور عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا تے رہے ہیں اور آج کل وبا کے دنوں میں بھی پاکستانی فوج ملکی اور عالمی قوانین اور اخلاقی ضوابط کو پامال کرکے بے دریغ فوجی آپریشن،بلوچوں کو اغوا و گھروں کو لوٹ مار کے بعد جلارہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ چونکہ کرونا کی روک تھام کے لیے حکومت بلوچستان نے 4 اپریل تک لاک ڑاؤن کا اعلان کیا ہے۔اس لیے ہم حکومت بلوچستان کی اعلان کا من و عن احترام کرتے ہوئے محدود مدت تک اپنے احتجاجی کیمپ کی بند کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور دوبارہ کرونا کی صورتحال کو دیکھ کر کیمپ کھولنے کا اعلان کرتے ہیں اور دوبارہ 5اپریل کو حالات کا جائزہ لے کر کیمپ کھولنے کا اعلان کریں گے۔