پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے کہا ہے کہ پارٹی نے اپنے سوشل میڈیا کارکنوں کی مبینہ ہراسانی کے خلاف درخواست تیار کرلی ہے اور کل ہائی کورٹس میں دائر کردی جائیں گی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں اسد عمر نے کہا کہ‘پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنوں کی ہرسانی چینلج کرنے کے لیے درخواست کو حتمی شکل دے دی گئی ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ‘کل صبح ہائی کورٹس میں دائر کردی جائیں گی’۔
پی ٹی آئی کی جانب سے یہ فیصلہ اس رپورٹس کے بعد کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ سے بے دخل کیے جانے کے بعد پارٹی کے سوشل میڈیا ونگ کے کارکنوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
حکومت پنجاب میں ڈیجیٹل میڈیا کے سابق فوکل پرسن اظہر مشوانی نے دعویٰ کیا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کی جانب سے پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے رضاکاروں کو ملک بھر میں ہراساں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے پارٹی قیادت سے معاملہ عدالتوں میں لے جانے کا مطالبہ کیا۔
پی ٹی آئی سے منسلک وکلا فورم نے بھی پارٹی کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اور اس دوران پی ٹی آئی کے کارکنوں خصوصاً سوشل میڈیا کارکنوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیاہے۔
لاہور میں عمران خان کے ڈیجیٹل میڈیا کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خان کے گھر میں 11 نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے چھاپہ مارا گیاتھا۔
پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ چھاپہ متوقع تھا، اسی لیے ڈاکٹر ارسلام کو کہیں اور منتقل کردیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے کارکنوں کے خلاف چھاپوں کے حوالے سے رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے چلنے والی سوشل میڈیا مہم میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے جنرل باجوہ اورپاکستانی فوج کو نشانہ بنایا گیا تھا، ٹوئٹر میں مسلح افواج اور اس کی قیادت کے خلاف ٹرینڈز چلائے گئے تھے اور سرگرمیاں دیکھی گئی تھیں۔
عمران خان کی وزارت عظمیٰ سے بے دخلی کے بعد اتوار کو پی ٹی آئی کے پاکستان بھرمیں احتجاجی مظاہروں میں جنرل باجوہ اورفوج کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے تھے۔