امریکی آرمی چیف نے پاسداران انقلاب کو دہشتگردی کی فہرست سے نکالنے کی مخالفت کر دی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی آرمی چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کو امریکی دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کی مخالفت کرتے ہیں جو کہ 2015 کے جوہری معاہدے کی طرف واپسی کے لیے تہران کی شرائط میں سے ایک ہے۔

جنرل مارک ملی نے کانگریس کو بتایا کہ ”میری ذاتی رائے میں میں سمجھتا ہوں کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور میں اسے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کی حمایت نہیں کرتا”۔

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ جوہری معاہدے کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے، جس کا مقصد پابندیوں کے خاتمے کے بدلے میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا ہے۔

بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں لیکن وہ ابھی تک کئی اہم نکات حل طلب ہیں۔

جوہری تنازع سے متعلق پابندیاں اٹھانے کے علاوہ تہران پاسداران انقلاب کو ”غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں ” کی امریکی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔

امریکی آرمی چیف قدس فورس کا حوالہ دے رہے تھے، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کے حامی ہیں۔

جنرل ملی جو مذاکرات میں حصہ نہیں لیتے یہ واضح کرنے کے خواہاں تھے کہ یہ صرف ان کی ذاتی رائے ہے اور وہ اس کا اظہار عوامی طور پر کرتے ہیں کیونکہ ایک فوجی کی حیثیت سے انہیں ان سوالوں کا جواب دینا چاہیے جو امریکی قانون ساز ان سے پوچھتے ہیں۔

وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ آسٹن نے کہا کہ میں جاری مذاکرات یا جو رائے صدر کو پیش کروں گا اس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔

Share This Article
Leave a Comment