بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کرونا وائرس سے بچاو کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کردیا۔
سریاب کے علاقے کیچی بیگ کے نوجوانوں پر مشتمل ٹیم ”بلوچستان بچاو“ کے نام سے مہم چلا رہی ہے۔ جس کے تحت گھروں، دفاتر اور دکانوں پر جاکر لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی دی جا رہی ہے۔
آگاہی مہم کے منتظمین نے بتایا کہ ہم لوگوں کو ماسک، سینٹلائزر اور دستانے مہیا کررہے ہیں اور ساتھ ہی لوگوں کو وائرس سے بچنے کے لیے تدابیر اپنانے کی آگاہی پہنچا رہے ہیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ شہر میں لاک ڈاون کے باوجود کئی افراد بحالت مجبوری یا غیر شعوری طور اپنے گھروں سے باہر جن کو گھروں میں رہنے کے فوائد سے آگاہ کیا جارہا ہے۔
بلوچستان لاک ڈاون کے اعلان کے بعد روزانہ کے اجرت پر کام کرنے والوں کے گھریلوں مشکلات بھی بڑھنے لگے۔
واضح رہے کہ لاپتہ علی اصغر بنگلزئی کے قائم کردہ دوکان ڈیسنٹ ٹیلرز میں فیس ماسکس بنائے جارہے ہیں جو کرونا وائرس سے بچاوْ کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر پہنے کے لیے لوگوں میں مفت تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
درزی کا کام کرنے والے 44 سالہ علی اصغر بنگلزئی 18 اکتوبر 2001 کو سریاب روڈ پر واقع ڈگری کالج کے قریب سے لاپتہ ہوئے۔ ان کے ساتھی تو 20 دن واپس گھر پہنچ گئے تاہم وہ آج تک لاپتہ ہیں۔
ان کی گمشدگی پر ان کے بھتیجے نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ ایک قسم کی بڑی مصیبت تھی جس نے نہ صرف بچوں بلکہ پورے گھر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔