کوئٹہ: بلوچ لاپتہ افراد کے احتجاجی کیمپ کو 4620 دن ہوگئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 4620 دن مکمل ہوگئے۔

بلوچ قوم پرست رہنما ڈاکٹر عبدالحکیم لہڑی، انسانی حقوق کے کارکن ایڈوکیٹ جلیلہ حیدر، بانک حوران بلوچ، بانک ماہ جبین بلوچ،بانک ماہ روش بلوچ جبکہ تربت سے کوئٹہ پیدل لانگ مارچ کرکے آنے والے کامریڈ گلزار دوست اپنے ساتھیوں کے ساتھ، جبکہ مسنگ پرسنز کے فیملیز بھی کیمپ میں موجود رہے۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے مخاطب ہو کر کہا کہ اس دنیا میں بہت سی شخصیات اہم کردار ادا کرتے ہیں جنکے کارنامے نا قابل فراموش ہوتے ہیں، ایسی شخصیات جن کے تعریف کیے بغیر انسان رہ نہیں سکتا، ویسے تو ہر قوم میں ایسی بہادر بیٹے بیٹیاں اور مائیں جنم لیتی ہیں جن کا کردار قابل ذکر ہوتا ہے اگرچہ دیکھا جائے تو بلوچ کی ایسی مائیں بیٹیاں جو ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور اپنے کاروان میں عمل پیرا ہیں آج بلوچ فرزندوں کے بازیابی کے پر امن جد وجہد میں ایسی ہی ماؤں بیٹیوں نے جنم لیا ہے جو ہر طرح کی تکالیف ہوں دلکش اور منفرد موسم یا کھٹن اور دشوار گزار راستہ تپتی دھوپ ہو سردی ہو یا بارش ہر طرح کے مشکل مرحلے میں دو چار ہونے کے باوجود اپنے جد وجہد میں مصروف ہے یہ ایک ایسی بہادر اور بے بس مائیں بہنیں ہیں تیرہ سالوں سے بھٹکتی پھرتی چیختی چلاتی آنسوں کو چھپائے ہوئے اپنے پیاروں کے انتظار میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر پڑھائی حتٰی کہ زندگی کے تمام آسائشیں چھوڑ دی ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ جب انسان غلامی کی زنجیروں کو توڑ نہیں سکتا وہ غلام اور محکوم قوم رہے گا، ہماری غلامی اور بے بسی کا اندازہ بخوبی اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج ہمارے سامنے بلوچ قوم کی بہادری اور بے بس بیٹیاں ہیں آج ہمیں اپنے اہمیت اور غلامانہ حیثیت کا اندازہ ہونا چاہیے کہ اس ریاست نے ہمیں اس قدر لاچار کیا ہے، ہم ظلم کے خلاف آواز کیوں اٹھاتے آج ہمیں اپنی قومی ثقافت و لسانی پہچان اور قبضہ گیر کے خلاف اور اپنے وسائل بلوچ فرزندوں کی بازیابی کے لیے ظالم استعماری قوتوں کے خلاف برسر پیکار ہونا چاہیے۔

Share This Article
Leave a Comment