عراقی کردستان کے دارالحکومت اربل میں امریکی قونصل خانے پر میزائل حملے کی ذمہ داری ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسداران انقلاب نے قبول کر لی ہے۔
اتوار کی صبح عراقی سیکورٹی حکام نے اعلان کیا کہ شمالی عراقی کردستان کے علاقے اربل پر بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں۔ عراقی کردستان ریجنل گورنمنٹ کے حکام کے مطابق دوپہر کے وقت امریکی قونصل خانے اور اس کے قریب ایک عمارت کے سامنے بھی دھماکے ہوئے جن میں صرف دو افراد زخمی ہوئے اور دو معمولی زخمی ہوئے۔
ایران کے فوجی دستے پاسداران انقلاب کے ادارہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے اسرائیل کے ’حالیہ جرائم‘ کے بدلے میں کیے گئے تھے جن میں ’صیہونی سازش کے سٹریٹجک مرکز‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے شام میں ہونے والے اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے دو ارکان مارے گئے تھے جس کے بعد انھوں نے جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ یہ حملہ شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب ہوا تھا جس کے بعد ایرانی حکومت نے کہا تھا کہ ’اس کا بدلہ لیا جائے گا۔‘
پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ انھوں نے حملوں میں ’پوائنٹ میزائل‘ کا استعمال کیا۔
فارس نیوز ایجنسی جو پاسداران انقلاب اسلامی کی حامی سمجھی جاتی ہے، نے ٹیلیگرام چینل سے لمحہ بہ لمحہ ان میزائل حملوں کے بارے میں معلومات اور قیاس آرائیاں شائع کی ہیں۔
صابری نیوز نے ایک سیکیورٹی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اربل میں اسرائیلی انٹیلی جنس سروس موساد کے زیر ملکیت دو جدید تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی سمیت پاسدارانِ انقلاب کے قریبی ذرائع ابلاغ نے اسی دعوے کو دہرایا ہے۔
کردستان ریجن کے حکام نے خطے میں کسی بھی اسرائیلی انٹیلی جنس مرکز کے وجود سے انکار کیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے فضائی حملے میں ایران کے سرکردہ عسکری کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے جنوری 2020 میں دو امریکی فضائی اڈوں پر ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی، ارنا نے بھی عراق میں شیعہ ملیشیا کے قریبی میڈیا آؤٹ لیٹ سبرین نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ درجنوں دھماکوں نے اربل شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اربل ہوائی اڈے کے قریب 14 راکٹ امریکی اڈوں پر گرے ہیں۔
مقامی ٹیلی ویژن نیٹ ورک (کردستان 24)، جس کے اسٹوڈیوز امریکی قونصل خانے کے قریب واقع ہیں، نے حملے کے بعد اپنے دفاتر کو پہنچنے والے نقصان کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی۔
عراقی شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’اربل اس طرح آگ کی زد میں ہے جیسے کرد عراقی نہیں ہیں۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل سنہ 2020 میں امریکہ کی جانب سے فضائی حملے میں ایران کے سرکردہ عسکری کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے جنوری 2020 میں دو امریکی فضائی اڈوں پر ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔
امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ عراق میں امریکی تنصیبات پر حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اس حملے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے متعدد اراکین نے ریپبلکن پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اربل پر اتوار کی صبح ہونے والے حملے کے تناظر میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر کسی بھی قسم کی بات چیت کو معطل کرے۔