لاپتہ افراد کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4582 دن ہو گئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

لاپتہ افراد کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4582 دن ہو گئے ہیں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں سندھ سجاگی کے مرکزی رہنما سارنگ جویو فرحان سید مسعود شاہ سوینی مریم سندھی نے اظہار یکجہتی کی وی بی ایم پی کے رہنما ماماقدہر نے کہا کہ انسانی حقوق کے علمبردار کو یہ حقیقت تسلیم کرنے میں شاید ہچکچا ہٹ نہ ہو کہ جن سندھی سپوتوں کو مسخ لاشوں میں بدلا گیا ہے انہوں نے قومی طبقاتی جبر و استحصال کو قایم رکھنے والی سرمایہ دارانہ جمہوریت اور نوکریوں مراعات کےلیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش نہیں کیا تھا بلکہ قومی پرامن جدوجہد کے لئے مقتل کی راہ چنی تھی ماماقدہر بلوچ نے مزید کہا کہ تب تک سندھی نوجوانوں کا بہایا گیا خون باربار نیا جہنم لیتا رہے گا دوسری طرف ریاستی اہلکاروں کے ہاتھوں مارواہے عدالت اغوا نما گرفتاریوں کے سلسلے کا بلوچستان سندھ تک پھیلاو بلوچ سندھی محکوم اقوام کے درمیان گہرے باہمی سیاسی سماجی پر پرامن جدوجہد اشتراک کا متقاضی ہے کیونکہ دونوں محکوم اقوام متحدہ یکساں مسائل صائب اور اہداف کے علاوہ تہذیبی و ثقافتی اور اقتصادی لحاظ سے گہرے تاریکی طور پر علاقائی ملاپ نے دونوں محکوم اقوام میں ایک دوسرے کے لئے محبت و احترام اور مزاج میں ہم آہنگی پیدا کردی ہے لہذا ایسی صورت میں قومی جبر سے نجات کی مشترکہ جدوجہد دونوں کا ایک دوسرے سے بڑھ کر کوئی اور فطری اتحادی ثابت نہیں ہو سکتا اگر چہ دیگر محکوم اقوام اور مظلوم طبقے سے اتحاد و اشتراک عمل بھی ناگزیر اور کامیابی کے لئے انہتائی اہمیت رکھتاہے تاہم بلوچ سندھی اور پشتون اقوام کا ماضی حال اور مستقبل باہمی طور پر گہری و مصروفی تقاضوں کی تکمیل بلوچ سندھی پشتون اقوام کو نو آبادی پاتی تسلط سے مکمل نجات اور ایک خوشحال قومی سماجی منزل تک رسائی کو آسان بنا سکتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تینوں اداروے ماورائے عدالت گرفتاریوں اور خفیہ حراستوں میں غیر انسانی عمل کے خاتمے کے بجائے اس کے قانونی تحفظ کےلیے پریشان نظر آہے اور آخر کار تحفظ پاکستان آرڈیننس لاکر عدالت کو کھل کر نوآبادیوں جبر و استحصال کی پاسداری کی سہولت دے دی گئی تا اس غیر جانبدار ٘پر آنچ نہ آئے

Share This Article
Leave a Comment