نوشکی اورچاغی میں دو مختلف واقعات میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 3افرادہلاک جبکہ ایک شخص کو جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا۔
بلوچستان کے ضلع چاغی کے نواحی علاقے پینام میں مسلح کی فائرنگ سے پک اپ ڈرائیور سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے۔
مذکورہ افراد کو اس وقت قتل کیا گیا جب وہ ویران جگہ پر اپنی گاڑی میں پیدا ہونے والی خرابی ٹھیک کررہے تھے۔
فائرنگ کرنے والے کے حوالے سے باتایا جارہا ہے کہ وہ ڈاکوتھے۔
مقتولین میں ایک کا تعلق چاغی جبکہ دوسرے کا خاران سے ہے، جنکی شناخت اسرار احمد سکنہ خاران اور حمیداللہ سکنہ چاغی کے ناموں سے ہوئی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر دالبندین عرفان خلجی کے مطابق لاشیں پرنس فہد ہسپتال دالبندین منتقل کرکے ضابطہ کارروائی کے بعد لاشوں کو لواحقین کے حوالے کردیا گیا۔
واقعہ کے متعلق حکام مزید تحقیقات کررہے ہیں جبکہ ذرائع بتارہے ہیں کہ ڈاکوؤں نے مقتولین سے لاکھوں روپے نقدی اور قیمتی اشیاء بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
اسی طرح ضلع نوشکی میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل جبکہ ایک نوجوان کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
فائرنگ کا واقعہ دو روز قبل نوشکی کے علاقے تازینہ کے مقام پر پیش آیا ہے جہاں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت علی جان کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص پیشے کے لحاظ سے دکاندار تھا جنہیں مسلح افراد نے دکان کے اندر فائرنگ کرکے قتل کیا ہے۔
ذرائع بتارہے ہیں کہ قاتلوں کا تعلق سرکاری حمایت یافتہ گروہ سے ہے، تاہم قتل کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔
نوشکی سے ہی اطلاعات ہیں گذشتہ روز مذکورہ گروہ سے تعلق رکھنے افراد نے نوشکی زرین جنگل میں ایک گلہ بان محمد نور مینگل کے گھر پر دھاوا بول کر اس کے کمسن بیٹے حبیب کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ساتھ ہی انہوں نے درجن سے زیادہ بھیڑ بکریاں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔