تربت یونیورسٹی میں ماسٹر پروگرام میں داخلوں کی عدم فراہمی قابل مذمت ہے،بساک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تربت یونیورسٹی مکران بھر میں وہ واحد تعلیمی ادارہ ہے جہاں دوردراز کے طالب علم اپنے خواب سنوارنے اس درسگاہ کا رخ کرتے ہیں لیکن یونیورسٹی انتظامیہ شروع دن سے اپنے غیر آئینی اور تعلیم دشمنی کے راستے پہ عمل پیرا ہوکر ہرسال سینکڑوں طالبعلموں کیلئے علم کے دروازے بند کرنے کی روش پہ قائم ہے۔بیچلر اور ماسٹر ڈگری میں داخلہ لینے کے امیدواروں کے کبھی نام میرٹ لسٹ سے ہٹائے جاتے ہیں تو کبھی ان کے داخلہ فارم مسترد کردیئے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سال بھی یونیورسٹی کی جانب سے ماسٹر ڈگری کیلیے داخلوں کا اعلان کیا گیا جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ وہ امیدواران جن کے نتائج آنا باقی ہیں وہ بھی داخلہ لینے کیلیے اہل ہیں. سینکڑوں طالبعلموں نے اپنے داخلے فارم اسی امید کی بنیاد پہ جمع کیے تھے۔طالبعلموں سے داخلہ کے بھاری فیس لیکر یونیورسٹی انتظامیہ اپنے ہی قول سے مکر گئی ہے کہ وہ اب ان طالبعلموں کو داخلے نہیں دے گا جن کے نتائج نہیں آئے ہیں۔

مرکزی ترجمان نے انتظامیہ کے اس فعل کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں ” ہوپ سرٹیفکیٹ” کی بنیاد پہ داخلے لئے جاتے ہیں۔لیکن تربت یونیورسٹی کی جانب سے ”ہوپ سرٹیفکیٹ” کی بنیاد پہ داخلے لینے والے امیدواروں کے ناموں کو مسترد کیا گیا جو سراسر علم دشمنی کے زمرے میں آتا ہے۔واضح رہے امتحانات کے نتائج بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے جاری نہیں ہوپا رہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ طالبعلموں کو ہوپ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پہ داخلے فراہم کرے یا پھر جلد از جلد بیچلر امتحانات کے نتائج کا اعلان کرے تاکہ طالبعلم اپنے تعلیمی سلسلے کو قائم رکھ سکیں۔بصورت دیگر طالبعلم اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجی طریقہ کار اپنائیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment