تربت: شاہینہ شاہین کے قاتل کی عدم گرفتاری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ و دھرنا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جسٹس فار شاہینہ شاہین کمیٹی کی جانب سے تربت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

جس میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شریک تھی جوبینر اٹھائے ہوئے تھے اور قاتل کی عدم گرفتاری کیخلاف شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔

احتجاجی مظاہرے میں انسانی حقوق کے ادارے یو این ایچ سی آر کے پروفیسر غنی پروازسمیت شاہینہ شاہین کے ہمشیرہ معصومہ شاہین اور سیاسی،سماجی اور سول سوسائٹی حلقوں کے سرگرم کارکنان شریک تھے۔

مظاہرے کے شرکاء ریلی کی شکل میں ڈی پی او کے آ فس کے سامنے پہنچے جہاں انہوں نے دھرنا دیا اور قاتل کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دھرنے سے بی ایس او کے سابق چیئر ین ظریف رند اور دیگر نے خطاب کیا اورشاہینہ شاہینہ کے قاتل کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

بلوچ آرٹسٹ شاہینہ شاہین کے قتل کوڈیڑھ سال زائد کا عرصہ ہوا ہے لیکن ابھی تک پولیس نے اس کے قاتل کو گرفتار نہیں کیا ہے۔

شاہینہ شاہین کو پانچ ستمبر 2020 کو تربت میں اس کے شوہر فائرنگ کرکے قتل کرنے کے بعد فرار ہوا تھا۔

شاہینہ شاہین ایک بلوچ آرٹسٹ، ٹی وی اینکر اور بلوچ خواتین کی پہلی میگزین دزگہار کی ایڈیٹر تھیں۔

بلوچ آرٹسٹ کے قاتل کی عدم گرفتاری کے خلاف گذشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پہ ایک آگاہی مہم کا انعقاد کیا گیا جس میں سماجی و سیاسی شخصیات اور طالب علموں نے حصہ لے کر شاہینہ شاہین کو انصاف دینے کی اپیل کی۔

شاہین شاہینہ کے لواحقین کا کہنا ہے شاہینہ شاہین کو اس کے شوہر محراب گچکی نے قتل کیا اور وہ بااثر شخصیت ہونے کی وجہ سے قانون کے شکنجے سے باہر ہیں۔

لواحقین کے مطابق نامزد قاتل محراب گچکی اس وقت کراچی میں ہے اور کھلے عام گھوم پھر رہا ہے، دوسری طرف قاتل کے فیملی کی طرف سے صلح کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے حالانکہ متاثرہ فیملی نے کسی طرح کی صلح صفائی سے انکار کیا ہے اور بار بار قاتل کی گرفتاری اور اسے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے، اور اب بھی اس مطالبے پر عملدرآمد کے لیے درخواست گزار ہے۔

Share This Article
Leave a Comment