جسٹس فار شہید شاہینہ شاہین کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو تربت میں منعقد ہوا جس میں شہید شاہینہ شاہین کے قاتل کی ایک سال چار ماہ بعد عدم گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں منگل 18 جنوری کو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیچ کی آفس کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے نامزد قاتل کی گرفتاری اور حکومت کی بے حسی کے خلاف سوشل میڈیا نیٹورکس پر مہم چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں ایچ آر سی پی کے ریجنل کوارڈی نیٹر پروفیسر غنی پرواز، تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست، مبارک بلوچ، بی ایس او کے سابق چیئرمین ظریف رند، آل پارٹیز کیچ کے قائم مقام کنوینر عبدالغفور کٹور، بی این پی عوامی کے ضلعی رہنما ظریف زدگ بلوچ، بی ایس او کی مرکزی کمیٹی کے رکن کریم شمبے، بی ایس او پجار کے کے رہنما نوید تاج، سماجی و سیاسی شخصیت میران حیات، جبکہ جسٹس فار شہید شاہینہ شاہین کمیٹی کی طرف سے معصومہ شاہین، ماروی شاہین، امجد مراد، شاہ میر بلوچ اور دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں شامل شرکاء نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ شہید شاہینہ شاہین کی شہادت کو ایک سال چار ماہ گزر گیا ہے مگر ان کے قتل میں نامزد مرکزی ملزم ابھی تک آزاد ہے بلکہ اسے کراچی میں کھلے عام گھوما دیکھا گیا ہے جبکہ حکومت کو بار بار درخواست دینے احتجاج، ریلیاں، بھوک ہڑتال، سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے باوجود ابھی تک کارروائی نہیں کی جارہی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم بااثر اور اسے پشت پناہی حاصل ہے۔
انہوں نے مذید کہاکہ شاہینہ شاہین کے شوہر اور ان کے نامزد قاتل محراب گچکی اس وقت کراچی میں ہے اور کھلے عام گھوم پھر رہے ہیں۔دوسری طرف قاتل کے فیملی کی طرف سے صلح کے لیے دباؤ دیا جارہا ہے حالانکہ متاثرہ فیملی نے کسی طرح کی صلح صفائی سے انکار کیا ہے اور بار بار قاتل کی گرفتاری اور اسے سزا دینے کا مطالبہ کیا اور اب بھی اس مطالبے پر عملدرآمد کے لیے درخواست گزار ہے۔
انہوں نے کہاکہ تربت کی انتظامیہ نے بظاہر کیس سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور قاتل کی گرفتاری کے لیے مکمل پولیس خاموش ہے۔
انہوں نے کہا کہ قاتل کی گرفتاری کے لیے جسٹس فار شہید شاہینہ شاہین کمیٹی منگل 18 جنوری کو ڈی پی او آفس کیچ کے سامنے دھرنا دیگی جب تک حکومت نامزد مرکزی ملزم محراب گچکی کو گرفتار نہیں کرے گی احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا جبکہ اس دوران سوشل میڈیا کے مختلف ٹولز کو استعمال میں لاکر حکومت کی سرد مہری اور قاتل کی گرفتاری کے لیے مہم چلائیں گے۔