بھارت: حکومت کا تمام اسکولوں میں طلبا کوسوریہ نمسکار کرانیکی ہدایت

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بھارت کی مرکزی حکومت نے ملک کے سکولوں میں ایک سے سات جنوری تک طلبا کو ’سوریہ نمسکار‘ کرانے کی ہدایت دی ہے۔

جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے انڈیا کی ’آزادی کے امرت مہوتسو‘ کے حصے کے طور پر سکولوں میں سوریہ نمسکار کے انعقاد کی مخالفت کی ہے۔

‘آزادی کا امرت مہوتسو‘ انڈیا کی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے سلسلے میں منایا جا رہا ہے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ نے ’سوریہ نمسکار‘ سے متعلق حکم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مسلم طلباء کو اس پروگرام میں حصہ لینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ سوریہ نمسکار سورج کی عبادت کی ایک شکل ہے۔‘

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے یہ بیان جاری کیا ہے۔

بورڈ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘انڈیا ایک سیکولر، کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے، ہمارا آئین ان اصولوں کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔

‘آئین ہمیں کسی خاص مذہب کے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے یا کسی مخصوص گروہ کے عقائد کی بنیاد پر تقاریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ موجودہ حکومت اس اصول سے انحراف کر رہی ہے اور ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اکثریتی فرقے کی سوچ اور روایت کو سماج کے تمام طبقات پر مسلط کیا جا رہا ہے۔’

‘وزارت تعلیم، حکومت ہند نے 75 ویں یوم آزادی کے موقعے پر 30 ریاستوں میں سوریہ نمسکار کا ایک پروگرام چلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں پہلے مرحلے میں 30 ہزار سکولوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ یکم جنوری 2022 سے سات جنوری 2022 تک اس پروگرام کے انعقاد کی تجویز ہے اور 26 جنوری کو سوریہ نمسکار کے حوالے سے ایک کنسرٹ کا بھی منصوبہ ہے۔

بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یقیناً یہ ایک غیر آئینی عمل اور حب الوطنی کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ سوریہ نمسکار سورج کی پوجا کی ایک شکل ہے۔ اسلام اور ملک کی دیگر اقلیتیں نہ تو سورج کو دیوتا مانتی ہیں اور نہ اس کی عبادت کو درست سمجھتی ہیں، لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایسی ہدایات واپس لے اور ملک کے سیکولر اقدار کا احترام کرے۔’

بورڈ نے کہا ہے کہ اگر حکومت حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے قومی ترانہ پڑھا جائے اور اگر حکومت ملک سے محبت کا حق ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

‘ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے لے کر مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، نفرت کا باقاعدہ پروپیگنڈہ، ملکی سرحدوں کی حفاظت میں ناکامی، سرکاری املاک کی مسلسل فروخت وغیرہ اصل مسائل ہیں جن پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔’

انگریزی اخبار ‘ٹائمز آف انڈیا’ کے مطابق حال ہی میں کرناٹک حکومت نے کالجوں اور سکولوں میں ‘سوریہ نمسکار’ کے حوالے سے ایک سرکلر جاری کیا تھا، جس پر کئی اداروں نے الزام لگایا تھا کہ یہ حکومت کی ‘بھگوا کرن’ (بھگوا یعنی زعفرانی رنگ سنگھ خاندان کا رنگ ہے) کی اسکیم کے تحت ہو رہا ہے۔

12 دسمبر کو جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا تھا کہ سکول صبح کی اسمبلی میں ‘سوریہ نمسکار’ کا انعقاد کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ طلبہ کی بڑی تعداد اس میں شرکت کرے۔ سرکلر میں پہلے یہ احکامات کالج کو دیے گئے تھے لیکن بعد میں سکولوں کو بھی اس میں شامل کرنے کو کہا گیا۔

سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ تیاری 26 جنوری کو ہونے والے بڑے سوریہ نمسکار پروگرام کے لیے ہے۔

Share This Article
Leave a Comment