خاران میں پاکستانی فورسز کی گھر گھرجارحیت، لوگوں پر تشدد اور لوٹ مار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے خاران میں نئے سال کی آخری رات اور صبح کے اوقات میں پاکستانی فورسز نے خاران کے مختلف علاقوں میں گھروں پر جارحیت کرتے ہوئے چادر و چار دیواری کی پامالی کی، گھروں میں توڑ پوڑ اور لوٹ مار کے ساتھ ساتھ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

آپریشن کے دوران کئی لوگوں کے ذاتی موبائل فونز، لیپ ٹاپ اور دیگر قیمتی اشیافورسز نے غیر قانونی طور پر قبضے میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔

ذرائع کے مطابق فورسزنے خاران شہر کے حافظ عزیز مسجد،عزیز آباد محلہ اور دوسرے قریبی محلوں میں سیف اللہ،فاروق احمد، دوست محمد، سعد اللہ نامی افراد سمیت دیگر کے گھروں کا محاصرہ کرکے جارحیت کی۔ اس کے علاوہ ہسپتال محلہ میں متعدد گھروں میں آپریشن کیا گیا جن میں مرحوم سید لعل محمد شاہ نامی شخص کا گھربھی شامل تھا۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ خاندان کے مختلف گھروں بالخصوص سید قیوم شاہ، خلیل شاہ،سید اصغر شاہ، سید قادر شاہ اورسید عظمت شاہ کے گھروں پر اس سے پہلے بھی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں نے کئی مرتبہ آپریشن کر کے گھروں میں توڈ پھوڑ اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

ذرائع کے مطابق فورسز نے کلی کوٹان میں واقع داؤد ساسولی نامی شخص کے گھر میں بھی سرچ آپریشن کیا۔

مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ داؤد ساسولی کے گھر میں اس سے قبل بھی فورسز نے ایک مرتبہ آپریشن کے دوران داؤد ساسولی سمیت ان کے بھائیوں کو اغواء کیا تھا جن میں سے ان کا ایک بھائی تاحال لاپتہ ہے۔

فورسز ایک عرصہ سے بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح خاران میں بھی سیاسی شخصیات کو نشانہ بنا کر ان کے گھروں پر جارحیت کرتی آرہی ہے۔

فورسز چادرچاردیواری کی پامالی کرتے ہوئے دیواریں پھلانگ کر گھروں میں گھستے ہیں، عورتوں بزرگوں اور معزز شخصیات کے ساتھ بدسلوکی اور گالم گلوچ کے علاوہ کئی لوگوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بناکر لاپتہ کردیتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment