بھارت: مہاتما گاندھی کیخلاف نفرت انگریز تقریر کرنے پر مذہبی رہنما گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بھارتی پولیس نے ہندوستان کے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے اور ان کے قاتل کی تعریف کرنے کے الزام میں ہندو مذہبی رہنما کو گرفتار کرلیا ہے۔

بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو پولیس افسر پرشانت نے بتایا کہ مذہبی رہنما کالی چرن مہاراج کو ریاست مدہیہ پردیش سے رواں ہفتے مذہبی گروہوں کے درمیان مہاتما گاندھی کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کالی چرن مہاراج نے اپنے بیان میں کہا کہ ’گاندھی نے ملک کو تباہ کردیا۔۔۔ ناتھورام گوڈسے کو سلام جس نے اسے قتل کیا۔‘

گرفتار مذہبی رہنما کو پولیس کی جانب سے تفتیش مکمل کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ کالی چرن مہاراج کو جرم ثابت ہونے پر پانچ سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق مہاتما گاندھی کو 1948 میں بھارتی دارالحکومت میں ایک ہندو انتہا پسند نے مسلمانوں سے ہمدردی رکھنے پر قتل کر دیا تھا۔

2014 سے وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کے خلاف نفرت اور حملوں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بھارت میں اپوزیشن جماعتیں بھی ایوان میں حکومت سے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے ہندو انتہا پسندوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment