تمپ: 6 افراد کی جبری گمشدگی کیخلاف عوام سراپا احتجاج، ایف سی کیمپ کے سامنے دھرنا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تمپ کلاہو اور سرنکن میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 6افراد کی جبری گمشدگی اورزیادتیوں کیخلاف عوام سراپا حتجاج بن گئے اور ایف سی کیمپ کے سامنے دھرنادیدیا۔

دھرنے میں کلاھو اور سرنکن سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں مردو خواتین اور بچے شامل ہیں۔

دھرنا مظاہرین کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکار آئے روز گھروں میں گھس کر لوگوں کو تنگ کرتے ہیں اور ان کے بچوں کو ماورائے آئین و قانون لاپتہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ شب بھی ایف سی کی بھاری نفری نے آکر ہمارے گھروں پر چھاپہ مارا اور اس دوران ہمارے 6 بچوں کو اٹھاکر لاپتہ کیا جن کے بارے میں ہمیں تاحال کوئی معلومات نہیں دی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جبری لاپتہ کئے گئے افراد میں ساری ولد براہیم، عارف ولد رحیم جان، مصدق ولد رحیم جان، لطیف ولد محمد، شیراز ولد اسماعیل اور عظیم ولد نزرت شامل ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کیا جائے اگر وہ مجرم ہیں اور ان کے ثبوت موجود ہیں تو عدالتوں میں ثبوت پیش کیے جائیں تاکہ عدالت اپنی طرف سے انصاف کے تقاضے پورا کرے۔ اگر اس طرح لوگوں کو اٹھاکر لاپتہ کردیا جائے تو قانون اور آئین کی روح مجروح ہوتی ہے۔

بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر تمپ اور ایس ایچ او تمپ نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی اور ان کے مطالبات مان کر لاپتہ افراد کوبازیاب کرانے میں کوشش کی یقین دہانی کرائی۔

تاہم مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ کیے گئے افراد کو فوری بازیاب کیا جائے ورنہ وہ تمپ ٹو تربت شاہراہ پر دھرنا دے کر اسے بلاک کردیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment