جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4512 دن ہو گئے۔
بدھ کے روز پنجگور سے سیاسی اور سماجی کارکنان میر رحمت بلوچ، نورا احمد بلوچ اور ھمل بلوچ نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کیا۔
وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اعلی عدالتوں کو حکومتی ریاستی اثرورسوخ سے مکمل طور پر آزاد کہا جا رہا لیکن اس عدلیہ کے فیصلے استعماری ریاستی ڈھانچے میں تبدیلی کی اہلیت نہیں رکھتے اس کے باوجود کچھ لوگ انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔ لوگوں کو اس عدلیہ سے ایک امید تھی جو جنرل مشرف کی آمریت خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تھی لیکن جلد ہی یہ امید اختتام کو پہنچ گئی۔
انھوں نے کہا ان عدالتوں کے کھوکھلے پن اور ان کو نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کا محافظ ثابت کرنے کے لیے پاکستانی عدالتوں سے جبری گمشدہ افراد کے لواحقین نے رجوع کیا اور وقت نے ثابت بھی کر دکھایا کہ بلوچ قوم کی پاکستانی عدالتی نظام سے مایوسی اور بد اعتمادی کوئی ہٹ دھرمی نہیں بلکہ ایک تلخ اور شدید تکلیف دہ تجربے کا نچوڑ تھی۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا یہ حقیقت ہے کہ کتابی علم سے زیادہ انسان تجرباتی علم سے سیکھتا ہے بلوچ قوم کے احساسات بد اعتمادی اور کسی تقریر کے بہکاوے میں آنے کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ بلوچ قوم کے حقوق اور ان سے درد دل رکھنے کے دعویدار اس وقت بھی صرف دعوے کر رہے تھے جب سابق فوجی آمر پرویز مشرف پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی کارروائی کرکے بلوچ فرزندوں کو جبری لاپتہ کر رہے تھے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جا رہی تھیں۔