بلوچستان یونیورسٹی ایمپلائز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان اس وقت انتظامی، فنانشل اور درس و تدریس میں مکمل طورپر مفلوج ہوگیاہے اور موجودہ وائس چانسلر کی انا پرستی اور نااہلی سے جامعہ میں ہر روز نت نئے مسائل جنم لے رہے ہیں اورصوبہ کا واحد مادر علمی کو بحرانوں کا سامنا ہے۔ جامعہ کے تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور جامعہ اسکا متعمل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ کے طلبا اور طالبات کے دھرنے اور طلبا کی عدم بازیابی پر جامعہ کے وائس چانسلر کی خاموشی قابل مذمت اور معنی خیز ہیاس وقت ملازمین،آفیسرز، اساتذہ کرام اور طلبا وطالبات اپنیحقوق کے حصول اور موجودہ نااہل اور تعلیم دشمن وائس چانسلر کی ہٹ دھرمی اور اناپرستی کی وجہ سے عرصہ دراز سے سراپا احتجاج ہیں اس بابت ایمپلائز ایسوسی ایشن نے جامعہ کے دیگر ایسوسی ایشنز کے ساتھ ملکر جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے پلیٹ فارم سے مختلف فورم سے احتجاجی تحریک شروع کی جوکہ تا ہنوز جاری ہے جامعہ کے ملازمین کے مسائل جن میں جامعہ کے ملازمین کے پروموشن، 44 فیصد ہاوس ریکوزیشن، ہاؤس بلڈنگ ایڈوانسزز، کلاس فور ملازمین کی جونیئر کلرک تعیناتی وغیرہ شامل ہیں اورایمپلائز، اساتذہ کرام اورآفیسرز کو درپیش روز مرہ کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے انکو طول دینے کی روش کو ملازمین دشمن اقدام قرار دیا- انہوں نے بیان میں جامعہ کے موجودہ صورتحال پر صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں وائس چانسلر کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جوکہ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے اس نااہل وائس چانسلر کے خلاف احتجاجی تحریک کا عکاس ہے انہوں نے گورنر چانسلر بلوچستان یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے جامعہ کے موجودہ صورتحال کا نوٹس لے کر اس نااہل وائس چانسلر کو فوری طور پربرطرف کرکے طلبا کے بازیابی کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں جائیں ایک اہل اور تعلیم دوست وائس چانسلر کا تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ صوبہ کے واحد مادر علمی کو بچایا جاسکے۔