بلوچستان یونیورسٹی سے دو طالب علم سہیل بلوچ اور فصیح اللہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف بلوچستان یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے آج دس دن گزرنے کے باوجود احتجاجی دھرنا جاری ہے طلباء کی احتجاجی کمیٹی سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے مذاکرات تاحال کامیاب نہ ہوسکے۔
گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں طلباء نے کہا کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جار رکھیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہم اپنے ساتھی طالب علموں کی بازیابی اور یونیورسٹی فورسز کی حوالے سے واضح پالیسی چاہتے ہیں اور جب تک ہمارے یہ مطالبات نہیں مانے جاتے ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔
”حکومتی مذاکراتی کمیٹی ہم سے ملاقات کرتی ہے، ہم گفتگو کرتے ہے لیکن ابھی تک ہمیں مسائل کے حل کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ملی“
طلباء نے کہا ہماری کمیٹی نے بلوچستان بار کونسل اور پریس کلب کی کابینہ سے ملاقات کی ہے جنھوں نے ہمیں ہر قسم کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کی سطح پر تمام تنظیموں سے رابطے میں ہیں اور ہمارے پاکستان کے دیگر طلباء تنظیموں سے بھی رابطے ہیں۔ اگر جبری لاپتہ طالب علموں کو بازیاب نہیں کیا تو ہم اپنے مطالبات کیحق میں اس احتجاجی سلسلے کو وسعت دیتے ہوئے بلوچستان گیر اور پھر پاکستان گیر احتجاج کریں گے۔
انھوں نے کہا طلباء کے خلاف ان اقدام کا مقصد انھیں تعلیم سے دور کرکے مزید پسماندہ بنانا ہے۔