گوادر ماہی گیر اتحاد کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ٹرالنگ کے حوالے سے حکومت بلوچستان اور چیف سیکٹری بلوچستان کے وعدے وفا نہ ہوسکے۔
گوادر میں ڈی جی فشریز کی موجودگی میں ٹرالنگ مافیہ کی غنڈہ گردی سمجھ سے بالا تر ہے۔
ہر روز سندھ کے سینکڑوں ٹرالر گوادر کے سمندری حدود میں آکر مقامی ماہیگیروں کے لاکھوں کے جال اور سنکل کا نقصان کرکے ماہیگیری معیشت کو تباہ کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
اس حوالے سے حکومت بلوچستان اور محکمہ فشریز کی پالیسیاں ماہیگیری صنعت کو بچانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں۔ اگر اسی طرح آبی حیات کی نسل کشی جاری رہی تو آنے والے دنوں میں ضلع گوادر میں ماہیگیری معیشت ختم ہوکر ماہیگیر نان شبینہ کے محتاج ہوجائینگے۔گوادر ماہیگیر اتحاد اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔